سرورققومی خبریں

لکھنؤ: کسمنڈی قلعہ مسجد میں بقرعید کی نماز پر پابندی، سکیورٹی سخت

کسمنڈی قلعہ مسجد میں نماز بقرعید پر پابندی

لکھنؤ 26 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اترپردیش کے دارالحکومت لکھنؤ کے کسامنڈی علاقے میں قلعہ مسجد تنازعہ مزید حساس رخ اختیار کر گیا ہے۔ بقرعید سے قبل ضلعی انتظامیہ نے بڑا فیصلہ لیتے ہوئے کسمنڈی قلعہ مسجد میں نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کر دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امن و امان برقرار رکھنے اور کسی بھی ممکنہ کشیدگی کو روکنے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔

انتظامیہ کے اس فیصلے کے بعد علاقے میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ پولیس اور پی اے سی کی بھاری نفری متنازعہ مقام کے اطراف تعینات کی گئی ہے جبکہ ڈرون اور سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور اس مقصد کے لیے خصوصی سائبر ٹیم کو فعال کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی اشتعال انگیز مواد یا افواہوں کو فوری طور پر روکا جا سکے۔

ضلعی حکام کے مطابق گزشتہ چند دنوں سے اس مقام کو لے کر دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات میں شدت دیکھی جا رہی ہے۔ مسلم فریق اس جگہ کو مسجد قرار دے رہا ہے جبکہ پاسی برادری کا دعویٰ ہے کہ یہ مقام بادشاہ کانسا کے تاریخی قلعہ کا حصہ ہے۔ پاسی برادری کی مختلف تنظیموں نے اس مقام کو اپنے ثقافتی اور تاریخی ورثے سے وابستہ قرار دیتے ہوئے محفوظ مقام بنانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

انتظامیہ نے بتایا کہ صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے دونوں فریقوں کے نمائندوں سے مسلسل بات چیت جاری ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی کو بھی قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور شرپسند عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

بقرعید کے پیش نظر پورے علاقے میں خصوصی چوکسی اختیار کی گئی ہے۔ حساس مقامات پر اضافی فورس تعینات کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر توجہ نہ دیں اور امن و بھائی چارہ برقرار رکھنے میں تعاون کریں۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال صورتحال قابو میں ہے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انتظامیہ نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ تنازعہ کے تاریخی اور قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد آئندہ کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button