جنگ بندی کے باوجود امریکہ کے ایران پر نئے حملے
آبنائے ہرمز کے قریب ایران کے میزائل ٹھکانوں اور بحری جہازوں پر حملہ
تہران/دوحہ 26 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکہ اور ایران کے درمیان وقتی جنگ بندی برقرار ہونے کے باوجود خلیجی خطہ ایک بار پھر کشیدگی کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ پیر کے روز امریکی فوج نے جنوبی ایران میں آبنائے ہرمز کے نزدیک ایرانی میزائل لانچر مقامات اور بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ میں مزید اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔
امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے ترجمان ٹموتھی ہاکنس کے مطابق یہ کارروائی امریکی فوجیوں کے تحفظ کے لیے کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی فوج کی جانب سے ممکنہ خطرات کی اطلاعات کے بعد ایسے مقامات کو ہدف بنایا گیا جہاں سے میزائل داغے جا سکتے تھے۔ امریکی فوج نے ان ایرانی جہازوں پر بھی حملہ کیا جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کی تیاری کر رہے تھے۔
واشنگٹن نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ جنگ بندی مذاکرات جاری ہیں، لیکن امریکی افواج کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں موجود فوجیوں اور جنگی جہازوں کو خطرہ محسوس ہونے کی صورت میں فوری کارروائی جاری رہے گی۔
یہ پہلا موقع نہیں جب جنگ بندی کے دوران دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھی ہو۔ اس سے قبل مئی کے اوائل میں بھی امریکہ نے ایران کے بعض فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔ اُس وقت امریکی انتظامیہ نے الزام لگایا تھا کہ ایرانی فورسز نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے امریکی جنگی جہازوں پر میزائل، ڈرون اور تیز رفتار کشتیوں کے ذریعے حملے کیے تھے، جس کے بعد جوابی کارروائی کی اجازت دی گئی۔
دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام پر بھی سخت موقف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم یا تو امریکہ کے حوالے کیا جائے یا اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے۔ ان کے مطابق اس عمل کی نگرانی بین الاقوامی ایٹمی اداروں کی موجودگی میں ہونی چاہیے تاکہ مستقبل میں کسی قسم کے خطرات کو روکا جا سکے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ جب تک ایران تقریباً 453 کلو افزودہ یورینیم اپنے قبضے سے نہیں ہٹاتا، تب تک اسے کسی معاشی رعایت یا نئے معاہدے کا فائدہ نہیں دیا جائے گا۔ امریکی حکام اس پالیسی کو “نو ڈسٹ، نو ڈالرز” کا نام دے رہے ہیں، جس کا مقصد ایران پر دباؤ برقرار رکھنا بتایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب تہران مسلسل یہ مؤقف دہرا رہا ہے کہ اس کا جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں، البتہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو اپنا حق قرار دیتا ہے۔
ایران نے عملی طور پر اہم آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے، جبکہ امریکی فوج نے ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ اس صورت حال کے باعث بحری آمد و رفت شدید متاثر ہوئی ہے اور دنیا بھر میں توانائی اور غذائی سپلائی پر بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار پیر کے روز قطر پہنچے، جو اس وقت جنگ بندی اور ممکنہ معاہدے کے لیے جاری سفارتی کوششوں میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔ ان مذاکرات کا مقصد تین ماہ سے جاری جنگ کا خاتمہ اور اہم تجارتی راستے میں بحری نقل و حرکت کی بحالی بتایا جا رہا ہے۔
امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق ممکنہ معاہدے کے ابتدائی خاکے میں دونوں ممالک کو مکمل امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے 60 دن کا وقت دینے کی تجویز شامل ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے مذاکرات میں ایک نئی شرط بھی شامل کرتے ہوئے اس معاہدے کو ابراہیم معاہدوں سے جوڑ دیا ہے۔ انہوں نے قطر، سعودی عرب، پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک سے اس سفارتی پیش رفت میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔
ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای جو اپنے والد کی ہلاکت کے بعد اقتدار میں آئے ہیں، نے منگل کو خبردار کیا کہ اب مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے لیے کوئی محفوظ پناہ گاہ باقی نہیں رہے گی۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ’’وقت کا پہیہ پیچھے نہیں گھومے گا اور خطے کے ممالک اب امریکی اڈوں کے لیے ڈھال نہیں بنیں گے۔‘‘ اطلاعات کے مطابق وہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں زخمی بھی ہوئے تھے۔
انہوں نے حج کے سالانہ اجتماع کے موقع پر ایرانی خبر رساں اداروں کے ذریعے جاری ایک اور پیغام میں دعویٰ کیا کہ ایران نے جنگ کے دوران ’’جارح امریکہ کو سخت جواب دیا اور ایران کو جھکانے کی دشمن کی کوشش ناکام بنا دی۔‘‘



