بین ریاستی خبریں

کوٹا :ڈلیوری کے بعد چار خواتین کی موت کے معاملے میں بڑا انکشاف،خون روکنے والا انجیکشن غیر معیاری نکلا

11 ادویات بھی ناکام، اسپتال میں ڈیلیوری کے بعد چار خواتین کی موت واقع ہوئی۔

جے پور 26 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)راجستھان کے سرکاری اسپتالوں میں استعمال ہونے والی ادویات کے معیار پر سنگین سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔ بچے کی پیدائش کے دوران خواتین کو خون بہنے سے روکنے کے لیے استعمال ہونے والے آکسیٹوسن Oxytocin انجیکشن کی ایک کھیپ غیر معیاری پائی گئی ہے۔ اس انکشاف کے بعد محکمہ صحت اور ڈرگ کنٹرول حکام میں کھلبلی مچ گئی۔

یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب کوٹا کے نیو میڈیکل کالج اسپتال میں ڈیلیوری کے بعد چار خواتین کی موت واقع ہوئی۔ اطلاعات کے مطابق ان خواتین کو ایک ہی اسٹاک سے آکسیٹوسن انجیکشن لگایا گیا تھا، جس کے بعد اس دوا کے معیار پر شبہ ظاہر کیا گیا۔

راجستھان ڈرگ کنٹرول ڈپارٹمنٹ کی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ انجیکشن میں وہ ضروری ایکٹو اجزاء مطلوبہ مقدار میں موجود نہیں تھے جو بچے کی پیدائش کے بعد زیادہ خون بہنے کو روکنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ رپورٹ سامنے آنے کے بعد ریاست بھر میں اس دوا کی فروخت اور استعمال پر فوری پابندی عائد کردی گئی۔ ساتھ ہی تمام سرکاری و نجی اسپتالوں اور میڈیکل اسٹورز کو اس بیچ کا اسٹاک ہٹانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

راجستھان کے ڈرگ کنٹرولر اجے پھٹک کے مطابق امرتسر کی جیکسن لیبارٹریز کی تیار کردہ آکسیٹوسن انجیکشن کی کھیپ لیبارٹری جانچ میں ناکام رہی۔ اس کے بعد کوٹا کے نیو میڈیکل کالج اسپتال سے اس بیچ کا مکمل اسٹاک ضبط کرلیا گیا۔ محکمہ اب یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہے کہ یہ دوا کن اسپتالوں اور سپلائی چینلز تک پہنچ چکی تھی۔

دوسری جانب اسپتال انتظامیہ نے خواتین کی اموات کو ناقص انجیکشن سے براہ راست جوڑنے سے انکار کیا ہے۔ اسپتال حکام کے مطابق ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دیگر طبی شواہد کی بنیاد پر اپنی حتمی رپورٹ پیش کرے گی۔ حکام نے کہا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے کسی نتیجے پر پہنچنا مناسب نہیں ہوگا۔

اس واقعہ کے بعد راجستھان میں ادویات کے کوالٹی کنٹرول نظام پر شدید تنقید ہو رہی ہے۔ گزشتہ دس دنوں کے دوران ریاست میں فروخت ہونے والی 11 مختلف ادویات کے نمونے جانچ میں ناکام قرار دیے گئے ہیں۔ ان میں بخار، الرجی، اینٹی بائیوٹکس، پیٹ کے انفیکشن اور ہنگامی حالات میں استعمال ہونے والی درد کش ادویات بھی شامل ہیں۔

محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق یہ ادویات راجستھان، ہماچل پردیش، آندھرا پردیش، گجرات، اتراکھنڈ، دہلی اور مہاراشٹر میں مختلف کمپنیوں کی جانب سے تیار کی جا رہی تھیں۔ محکمہ اب متعلقہ کمپنیوں کے خلاف قانونی کارروائی کی تیاری میں مصروف ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں فراہم کی جانے والی ادویات کی سخت اور مسلسل نگرانی ناگزیر ہے کیونکہ معمولی غفلت بھی انسانی جانوں کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button