بین ریاستی خبریںجرائم و حادثات

لکھنؤ میں یو پی ایس سی کی طالبہ کے ساتھ مبینہ اجتماعی عصمت دری

تین افراد نے اسے اغوا کرکے قید میں رکھا اور مسلسل زیادتی کا نشانہ بنایا۔

نئی دہلی 25 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)لکھنؤ میں یو پی ایس سی امتحان کی تیاری کر رہی ایک طالبہ کے ساتھ مبینہ اجتماعی عصمت دری کا ہولناک معاملہ سامنے آیا ہے۔ متاثرہ طالبہ نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے جاننے والے سمیت تین افراد نے اسے اغوا کرکے مسلسل زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزمان کی تلاش تیز کر دی ہے۔

متاثرہ طالبہ اصل میں جونپور کی رہنے والی ہے اور دہلی کے ایک کالج میں بی اے آنرز کے دوسرے سال کی طالبہ ہے۔ وہ سول سروسز امتحان کی تیاری بھی کر رہی ہے۔ کالج میں تعطیلات کے باعث وہ یکم مئی کو اپنے گھر آئی تھی۔ 15 مئی کو امتحان کی تاریخ آنے پر وہ سہیل دیو ایکسپریس کے ذریعے دہلی واپس روانہ ہوئی۔ اس کے والد نے اسے جعفرآباد ریلوے اسٹیشن پر ٹرین میں سوار کرایا تھا۔

ٹرین میں سفر کے دوران طالبہ نے اپنے چار سال پرانے جاننے والے شیوم یادو کو واٹس ایپ پر پیغام بھیجا۔ اطلاع ملنے پر شیوم یادو اپنے دوست شانی یادو کے ساتھ لکھنؤ کے چارباغ ریلوے اسٹیشن پہنچا۔ الزام ہے کہ دونوں نے طالبہ کو بات چیت کے بہانے ٹرین سے اتار لیا اور سوشانت گالف سٹی علاقے میں واقع ایک کمرے میں لے گئے۔

شکایت کے مطابق شیوم یادو نے طالبہ کی کافی میں نشہ آور دوا ملا دی۔ نیم بے ہوشی کی حالت میں آنے کے بعد اس نے مبینہ طور پر طالبہ کے ساتھ زیادتی کی۔ متاثرہ کے مطابق بعد میں شیوم نے اپنے دوستوں کو بھی بلا لیا، جنہوں نے بھی اس کے ساتھ بدسلوکی اور زیادتی کی۔ طالبہ کا الزام ہے کہ ملزمان نے اسے  کمرے میں بند رکھا تاکہ وہ فرار نہ ہو سکے۔

متاثرہ نے بتایا کہ اس دوران ایک تیسرا شخص بھی کمرے میں آیا، تاہم شدید صدمے کی وجہ سے وہ اس کی شناخت نہیں کر سکی۔ الزام ہے کہ تینوں افراد نے باری باری اس کے ساتھ عصمت دری کی۔

طالبہ کی حالت بگڑنے پر ملزمان نے گرفتاری کے خوف سے اسے جنرل ٹکٹ دے کر دہلی جانے والی ٹرین میں بٹھا دیا۔ سفر کے دوران جب طالبہ کو ہوش آیا تو وہ شدید خوفزدہ ہو گئی۔ اس نے فوری طور پر اپنے والدین کو فون کرکے پوری آپ بیتی سنائی۔

اطلاع ملتے ہی طالبہ کے والد نے ریلوے ہیلپ لائن 139 پر رابطہ کیا، جس کے بعد جی آر پی کی ٹیم نے متاثرہ سے بات کی۔ دہلی پہنچنے پر اہل خانہ اسے آنند وہار پولیس اسٹیشن لے گئے، جہاں اس کے بیان کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا۔ بعد ازاں کیس لکھنؤ پولیس کو منتقل کر دیا گیا۔

اے ڈی سی پی ساؤتھ کے مطابق معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پانچ خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جن میں سرویلنس ٹیمیں بھی شامل ہیں۔ پولیس مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ دہلی پولیس کی کارروائی کی اطلاع ملتے ہی ملزمان نے اپنے موبائل فون بند کر دیے اور روپوش ہو گئے۔

پولیس کے مطابق مرکزی ملزم شیوم یادو اکثر اپنے بھائی سے ملنے لکھنؤ آتا تھا، جبکہ دوسرا ملزم شانی یادو شہر میں ڈیلیوری بوائے کا کام کرتا ہے۔ تیسرے ملزم کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی ہے۔

اس واقعے کے بعد متاثرہ طالبہ اور اس کا خاندان شدید صدمے میں ہے۔ طالبہ کے والد نے کہا کہ ان کی بیٹی خوف اور ذہنی دباؤ کا شکار ہے اور گھر میں خاموش رہتی ہے۔ اہل خانہ اس کی کونسلنگ کرانے کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ وہ اس ذہنی صدمے سے باہر آ سکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button