بین ریاستی خبریں

آسام اسمبلی میں یکساں سول کوڈ بل پیش، کثرتِ ازدواج پر پابندی کی تجویز

آسام یکساں سول کوڈ نافذ کرنے والی ملک کی تیسری ریاست

گوہاٹی 25 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)آسام حکومت نے کابینہ سے منظوری ملنے کے تقریباً دو ہفتے بعد پیر کے روز اسمبلی میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) بل پیش کر دیا۔ وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کی جانب سے پارلیمانی امور کے وزیر اتل بورا نے ایوان میں ’’یونیفارم سول کوڈ آسام بل 2026‘‘ پیش کیا۔ حکومت نے اشارہ دیا ہے کہ 27 مئی کو اس بل پر تفصیلی بحث ہوگی، جس کے بعد اس کی منظوری کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

بل پیش ہوتے ہی اسمبلی کے اندر سیاسی ہنگامہ شروع ہو گیا۔ کانگریس، ترنمول کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے اس اقدام کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اتنے حساس معاملے پر قانون سازی سے پہلے تمام طبقات، سماجی تنظیموں اور مذہبی نمائندوں سے تفصیلی مشاورت ہونی چاہئے تھی۔

ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مسودہ آسام کی سماجی ساخت اور آبادیاتی تنوع کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق یو سی سی بل بنیادی طور پر خاندانی اور سماجی معاملات سے متعلق پانچ اہم شعبوں کو منظم کرے گا تاکہ تمام شہریوں کے لیے یکساں قانونی نظام قائم کیا جا سکے۔

مجوزہ قانون کے تحت ریاست میں کثرتِ ازدواج پر مکمل پابندی عائد کی جائے گی۔ اس کے ساتھ شادی کے لیے کم از کم عمر کا یکساں معیار نافذ ہوگا۔ بل میں شادی اور طلاق کی لازمی رجسٹریشن کی تجویز بھی شامل ہے تاکہ ہر نکاح، شادی اور علیحدگی کا سرکاری ریکارڈ محفوظ رکھا جا سکے۔

بل میں خواتین کے حقوق کو بھی نمایاں اہمیت دی گئی ہے۔ مجوزہ قانون کے مطابق بیٹیوں کو آبائی جائیداد اور وراثت میں مردوں کے برابر حقوق حاصل ہوں گے۔ اس کے علاوہ بغیر شادی ساتھ رہنے والے جوڑوں یعنی لیو اِن ریلیشن شپ کے لیے بھی رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے اور اس سلسلے میں سخت قانونی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

اس سے پہلے 13 مئی کو وزیر اعلیٰ سرما کی دوسری میعاد کی پہلی کابینہ میٹنگ میں یو سی سی کے مسودے کو منظوری دی گئی تھی۔ حکومت نے اسی وقت اعلان کیا تھا کہ اسمبلی کے موجودہ اجلاس کے دوران یہ بل ایوان میں پیش کیا جائے گا۔

اگر یہ بل منظور ہو جاتا ہے تو آسام، اتراکھنڈ اور گجرات کے بعد یکساں سول کوڈ نافذ کرنے والی ملک کی تیسری ریاست بن جائے گی۔ تاہم بل کے پیش ہونے کے ساتھ ہی ریاست کی سیاست میں گرما گرمی بڑھ گئی ہے۔ حکمراں جماعت اسے عوام سے کیا گیا بڑا انتخابی وعدہ پورا کرنے کی سمت اہم قدم قرار دے رہی ہے، جبکہ اپوزیشن اس قانون کے سماجی اثرات اور جلد بازی میں پیش کئے جانے پر سوال اٹھا رہی ہے۔

تینوں ریاستوں کے یو سی سی میں کیا فرق ہے؟

آسام، اتراکھنڈ اور گجرات میں نافذ یا پیش کئے گئے یکساں سول کوڈ کا بنیادی ڈھانچہ کافی حد تک ایک جیسا ہے، لیکن ان کے قوانین، سزاؤں اور نفاذ کے طریقۂ کار میں کئی نمایاں فرق بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔

سب سے اہم فرق تعددِ ازدواج کے معاملے میں سامنے آیا ہے۔ اتراکھنڈ اور گجرات میں تعدد ازدواج کو ممنوع قرار دے کر اسے دیوانی خلاف ورزی مانا گیا ہے، جبکہ آسام میں اسے مجرمانہ جرم قرار دیا گیا ہے، جس پر سات سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔

آسام کے مجوزہ یو سی سی بل میں کم عمری کی شادی اور مذہب تبدیل کرا کے شادی کرانے جیسے معاملات کے خلاف بھی سخت دفعات شامل کی گئی ہیں۔ ریاستی حکومت نے ایسے معاملات میں سخت قانونی کارروائی اور جرمانوں کی تجویز دی ہے۔ اس کے مقابلے میں اتراکھنڈ اور گجرات کے ابتدائی یو سی سی قوانین میں ایسی سخت شقیں نمایاں طور پر شامل نہیں تھیں۔

قبائلی برادریوں کے حوالے سے تینوں ریاستوں میں استثنیٰ دیا گیا ہے، لیکن آسام میں اس کی اہمیت زیادہ سمجھی جا رہی ہے کیونکہ وہاں قبائلی آبادی کا تناسب کافی زیادہ ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ قبائلی طبقوں کو قانون سے باہر رکھ کر ان کی روایتی ثقافت اور رسم و رواج کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

لیو اِن ریلیشن شپ سے متعلق قوانین میں بھی فرق موجود ہے۔ اتراکھنڈ اور گجرات میں بغیر شادی ساتھ رہنے والے جوڑوں کے لیے آن لائن رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے اور خلاف ورزی پر جرمانہ یا قید کی سزا رکھی گئی ہے۔ آسام میں بھی رجسٹریشن ضروری ہوگی، لیکن وہاں مقامی سماجی حالات اور رازداری کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے طریقۂ کار کو نسبتاً مختلف رکھا گیا ہے۔

نفاذ کے اعتبار سے اتراکھنڈ ملک کی پہلی ریاست تھی جس نے یکساں سول کوڈ نافذ کیا، جبکہ گجرات نے مارچ 2026 میں اس سے متعلق قانون منظور کیا۔ آسام نے 25 مئی 2026 کو اسمبلی میں یو سی سی بل پیش کیا ہے، جس پر ابھی مزید بحث اور منظوری کا عمل باقی ہے۔

دوسری جانب کانگریس، ترنمول کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے اس بل کی سخت مخالفت کی ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اتنے حساس معاملے پر قانون سازی سے پہلے تمام طبقات، سماجی تنظیموں اور متعلقہ فریقوں سے تفصیلی مشاورت ضروری تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button