بین الاقوامی خبریں

سورت بکرا منڈی میں جعلی نوٹوں سے دو بکرے خریدنے والے 4 ملزمان گرفتار

بکرا منڈی میں جعلی نوٹوں سے خریداری کرنے والے چار افراد کو پولیس نے چند گھنٹوں میں گرفتار کرلیا

سورت 26 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) گجرات کے سورت شہر میں بقرعید سے قبل قائم کی گئی بکرا منڈی میں جعلی کرنسی کے استعمال کا سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔ راجستھان سے آئے ایک تاجر کو دو بکرے فروخت کرنے کے عوض پچاس ہزار روپے کے نقلی نوٹ تھما دیے گئے۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے چار ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

اطلاعات کے مطابق راجستھان کے 35 سالہ بھنور لال جے چند بھاگیہ بقرعید کے موقع پر بکرے فروخت کرنے کے لیے سورت کے سچن پالسانہ ٹی پوائنٹ علاقے میں قائم بکرا منڈی پہنچے تھے۔ 17 مئی 2026 کو تین افراد محمد الفت شیخ، نذیر انصاری اور رئیس صدیقی ان کے پاس آئے اور دو بکرے خریدنے کا سودا طے کیا۔ دونوں بکرے 25-25 ہزار روپے میں خریدے گئے اور ملزمان نے 500 روپے کے 100 نوٹ ادا کیے۔

اگلے دن جب بھنور لال نے رقم کی جانچ کی تو انہیں شبہ ہوا کیونکہ کئی نوٹوں کے سیریل نمبر ایک جیسے تھے۔ مزید جانچ کے بعد معلوم ہوا کہ 100 میں سے 97 نوٹ مکمل طور پر جعلی تھے جبکہ صرف تین نوٹ اصلی تھے۔ اس کے بعد متاثرہ تاجر نے فوری طور پر سچن پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی۔

پولیس نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فوری تحقیقات شروع کیں۔ سورت سٹی پولیس کے اعلیٰ افسران کی نگرانی میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ خفیہ اطلاع کی بنیاد پر سچن پولیس نے جال بچھا کر چار ملزمان محمد الفت شیخ، نذیر انصاری، رئیس صدیقی اور محمد جمال عبدالستار شیخ کو گرفتار کرلیا۔

پولیس نے مرکزی ملزم محمد الفت کے گودام اور رہائش گاہ پر چھاپہ مارا جہاں سے 500 روپے کے مزید 20 جعلی نوٹ برآمد ہوئے۔ تفتیش کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ ملزمان نے تقریباً 2 لاکھ 5 ہزار 500 روپے مالیت کے جعلی نوٹ پھاڑ کر اور جلا کر ثبوت مٹانے کی کوشش کی۔ پولیس نے نوٹوں کے جلے ہوئے اور پھٹے ہوئے ٹکڑے بھی قبضے میں لے لیے۔

پولیس کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 322 جعلی 500 روپے کے نوٹ برآمد کیے گئے ہیں جن کی مالیت ایک لاکھ 61 ہزار روپے بنتی ہے۔ واردات میں استعمال ہونے والی بلٹ موٹر سائیکل اور خریدے گئے بکرے بھی ضبط کر لیے گئے ہیں۔

پولیس اب اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ یہ جعلی نوٹ کہاں تیار کیے جا رہے تھے اور اس نیٹ ورک میں مزید کون لوگ شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button