وزن کم کرنے والی ادویات کینسر کے علاج میں مددگار؟ نئی تحقیق نے امید جگا دی
اوزیمپک اور ویگووی سے کینسر مریضوں کو بھی فائدہ، نئی تحقیق میں حیران کن دعویٰ
نیویارک 23 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) دنیا بھر میں وزن کم کرنے اور ذیابیطس کو قابو میں رکھنے کے لیے استعمال ہونے والی مشہور ادویات اوزیمپک Ozempic اور ویگووی Wegovy اب ایک نئی وجہ سے توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔ تازہ طبی تحقیقات میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ یہ ادویات کینسر کے مریضوں کی صحت بہتر بنانے اور ان کے زندہ رہنے کے امکانات بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
سائنس دانوں کے مطابق یہ ادویات، جنہیں طبی زبان میں جی ایل پی-1 ریسیپٹر ایگونسٹ کہا جاتا ہے، نہ صرف جسمانی وزن کم کرتی ہیں بلکہ جسم میں شوگر کی سطح کو بھی متوازن رکھتی ہیں۔ حالیہ مطالعات میں دیکھا گیا کہ ایسے کینسر مریض جو یہ ادویات استعمال کر رہے تھے، ان میں بیماری کے تیزی سے پھیلنے کا خطرہ نسبتاً کم تھا جبکہ ان کی صحت یابی کے امکانات بھی زیادہ بہتر دکھائی دیے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موٹاپا کئی اقسام کے کینسر کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھا جاتا ہے، جن میں چھاتی کا کینسر، کولوریکٹل کینسر اور لبلبے کا کینسر شامل ہیں۔ جب جسم میں اضافی چربی کم ہوتی ہے تو اندرونی سوزش میں بھی کمی آتی ہے، اور یہی صورتحال کینسر کے خلیات کی نشوونما کو محدود کرنے میں مدد دیتی ہے۔
تحقیق سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ کینسر کے علاج کے دوران اگر مریض موٹاپے یا ذیابیطس کا شکار ہو تو اس کی جسمانی حالت مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ یہ نئی ادویات بیک وقت کئی پہلوؤں پر کام کرتی ہیں۔ ایک طرف یہ خون میں شوگر کی مقدار قابو میں رکھتی ہیں اور دوسری جانب کینسر کے خلیات کو توانائی کی فراہمی محدود کرنے میں مددگار بنتی ہیں۔ وزن میں کمی کے باعث جسمانی قوت مدافعت بھی مضبوط ہوتی ہے، جس سے مریض کے اندر بیماری سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔
ڈاکٹروں نے واضح کیا ہے کہ ان ادویات کو کینسر کا مکمل علاج قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کینسر کے بنیادی علاج میں اب بھی کیموتھراپی، تابکاری اور سرجری شامل ہیں، تاہم نئی ادویات ان علاجی طریقوں کے نتائج کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں ان ادویات کے فوائد کی فہرست مسلسل بڑھ رہی ہے۔ پہلے تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ یہ ہارٹ اٹیک اور فالج کے خطرات کم کرنے میں مدد دیتی ہیں، جبکہ اب کینسر سے متعلق تازہ نتائج نے طبی ماہرین کی امیدوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ ان ادویات کا استعمال صرف ڈاکٹر کے مشورے سے ہی کیا جانا چاہیے کیونکہ ان کے کچھ مضر اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ اس لیے ہر مریض کی طبی حالت کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ہی ان ادویات کے استعمال کا فیصلہ کیا جانا ضروری ہے۔



