امریکی انٹیلی جنس ڈائریکٹر تلسی گبارڈ مستعفی، کیا وائٹ ہاؤس میں بڑھ رہے تھے اختلافات؟
تلسی گبارڈ کا استعفیٰ امریکی سیاست میں نئے سوالات اور قیاس آرائیوں کو جنم دے رہا ہے۔
واشنگٹن 23 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) امریکی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس تلسی گبارڈ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران اپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق 30 جون ان کے عہدے کا آخری دن ہوگا۔
تلسی گبارڈ نے اپنے رسمی استعفیٰ نامے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران نیشنل انٹیلی جنس کے دفتر کی قیادت کرنے کا موقع ملا، جس پر وہ ہمیشہ شکر گزار رہیں گی۔ انہوں نے اپنے خاندان کو درپیش ذاتی حالات اور اپنے شوہر کی بیماری کا ذکر کرتے ہوئے صدر کی ہمدردی اور تعاون کی بھی تعریف کی۔
اپنے دورِ ذمہ داری میں تلسی گبارڈ نے انٹیلی جنس اداروں میں کئی اہم تبدیلیاں نافذ کیں۔ ان کے مطابق مختلف پروگراموں میں کمی کے ذریعے حکومت کو سالانہ کروڑوں ڈالر کی بچت ہوئی۔ اسی دوران متعدد اہم سرکاری دستاویزات بھی منظرِ عام پر لائی گئیں، جن میں ٹرمپ۔روس تحقیقات اور سابق امریکی رہنماؤں کے قتل سے متعلق ریکارڈ شامل ہیں۔
تلسی گبارڈ امریکی ساموا میں پیدا ہوئیں۔ ان کی والدہ ہندوستانی نژاد جبکہ والد یورپی پس منظر رکھتے ہیں۔ وہ امریکی فوج میں خدمات انجام دے چکی ہیں اور عراق میں بھی تعینات رہی تھیں۔ انہیں امریکہ کی پہلی ہندو خاتون رکنِ کانگریس کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ وہ پہلے ڈیموکریٹک پارٹی سے وابستہ تھیں، تاہم 2022 میں پارٹی چھوڑنے کے بعد ریپبلکن پارٹی میں شامل ہوگئیں۔ وہ سابق نائب صدر کملا ہیرس کی سخت ناقد بھی رہی ہیں۔
اگرچہ وائٹ ہاؤس نے تلسی گبارڈ کے استعفیٰ کو خاندانی مسئلہ قرار دیا ہے، لیکن واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں اس فیصلے کو محض ذاتی معاملہ نہیں سمجھا جا رہا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق گزشتہ چند ماہ سے تلسی گبارڈ اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان اختلافات نمایاں ہوتے جا رہے تھے، خاص طور پر ایران اور وینزویلا کے حوالے سے امریکی پالیسی پر۔
تلسی گبارڈ کا شمار ہمیشہ ان امریکی سیاست دانوں میں کیا جاتا رہا ہے جو بیرونِ ملک جنگوں اور فوجی مداخلت کی مخالفت کرتے ہیں۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ نے حالیہ مہینوں میں ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا، جس کے بعد انتظامیہ کے اندر پالیسی اختلافات کی خبریں گردش کرنے لگیں۔
سیاسی حلقوں میں اس بات پر بھی توجہ دی جا رہی ہے کہ تلسی گبارڈ کچھ عرصے سے اہم حکومتی فیصلوں میں کم دکھائی دے رہی تھیں۔ خاص طور پر ایران سے متعلق بڑھتی کشیدگی کے دوران انٹیلی جنس سربراہ کے طور پر ان کا کردار نمایاں ہونا چاہیے تھا، لیکن وہ اکثر پس منظر میں رہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ میں مسلسل استعفوں نے بھی ان قیاس آرائیوں کو مزید تقویت دی ہے۔ اس سال کئی اہم شخصیات اپنے عہدے چھوڑ چکی ہیں، جن میں لیبر سکریٹری لوری شاویز ڈی ریمر، ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوم، اٹارنی جنرل پام بونڈی اور نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے سابق ڈائریکٹر جو کینٹ شامل ہیں۔
تلسی گبارڈ اور صدر ٹرمپ کے درمیان اختلافات اس وقت زیادہ نمایاں ہوئے جب گبارڈ نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کہا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کر رہا۔ تاہم صدر ٹرمپ نے عوامی سطح پر اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے مطابق ایران جوہری ہتھیار تیار کرنے کے بہت قریب پہنچ چکا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق کسی امریکی صدر کی جانب سے اپنے ہی انٹیلی جنس سربراہ کے مؤقف کو کھلے عام رد کرنا غیر معمولی بات سمجھی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب تلسی گبارڈ کے استعفیٰ کو صرف ذاتی مسئلہ نہیں بلکہ وائٹ ہاؤس کے اندر بڑھتے نظریاتی اور پالیسی اختلافات سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔



