حیدرآباد: سینئر وکیل خواجہ معیز الدین کی مشتبہ ہٹ اینڈ رن میں موت، قتل کے زاویے سے تحقیقات شروع
قتل کا مقدمہ درج
حیدرآباد 23 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)حیدرآباد کے نامپلی علاقہ میں مشتبہ ہٹ اینڈ رن واقعہ میں شدید زخمی ہونے والے 63 سالہ سینئر ایڈوکیٹ خواجہ معیز الدین زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ پولیس نے ان کی موت کے بعد اقدام قتل کے مقدمہ کو قتل میں تبدیل کرتے ہوئے جانچ تیز کردی ہے۔
پولیس کے مطابق ہفتہ کے روز خواجہ معیز الدین اپنی رہائش گاہ سے باہر نکل کر گاڑی میں بیٹھنے والے تھے کہ اسی دوران ایک تیز رفتار ایس یو وی نے مبینہ طور پر انہیں زور دار ٹکر ماری۔ حادثہ کی ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے جس میں گاڑی انہیں کئی فٹ دور اچھالتے ہوئے دکھائی دے رہی ہے۔
شدید زخمی حالت میں انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم علاج کے دوران وہ دم توڑ گئے۔
واقعہ کے بعد حیدرآباد پولیس نے موقع پر پہنچ کر تحقیقات شروع کردی۔ پولیس ٹیموں نے اسپتال کا دورہ کیا اور شواہد اکٹھا کرنے کا عمل شروع کیا۔ ڈپٹی کمشنر آف پولیس رکشیتا کرشنا مورتی نے میڈیا کو بتایا کہ خواجہ معیز الدین کی موت کے بعد مقدمہ میں قتل کی دفعات شامل کردی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کیس کی جانچ کے لیے چار سے پانچ خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کا جائزہ لے رہی ہیں۔ پولیس حادثہ میں استعمال ہونے والی گاڑی کی تلاش بھی کر رہی ہے۔
ادھر مرحوم وکیل کے اہل خانہ اور ساتھیوں نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ یہ محض حادثہ نہیں بلکہ پہلے سے منصوبہ بند حملہ ہوسکتا ہے۔ پولیس اسی بنیاد پر قتل سمیت تمام ممکنہ زاویوں سے تحقیقات کر رہی ہے۔
خواجہ معیز الدین کے بیٹے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مجاہد عالم خان اور محبوب عالم خان نامی دو افراد پر سنگین الزامات عائد کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں افراد وقف اراضی پر قبضہ کے معاملات میں ملوث تھے اور ان کے والد ان کے خلاف قانونی جنگ لڑ رہے تھے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک پیٹ میں انوار العلوم، ممتاز یار الدولہ، مدرسہ عائزہ اور نواب شاہ عالم خان انجینئرنگ کالج جیسی جائیدادیں وقف اراضی پر قائم ہیں جن پر ناجائز قبضہ کیا گیا۔ ان کے مطابق ان کے والد ان املاک کو بچانے کے لیے سرگرم تھے۔
بیٹے نے یہ بھی کہا کہ یہ خواجہ معیز الدین پر چھٹا حملہ تھا۔ اس سے پہلے بھی ان پر دفتر اور مسجد کے باہر حملے ہو چکے تھے جبکہ انہیں مسلسل دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ان کے والد کو مقدمات واپس لینے، بیرون ملک منتقل ہونے اور رقم قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا۔ بیٹے کے مطابق اگر ان کے خاندان کو کوئی نقصان پہنچتا ہے تو اس کے ذمہ دار وہی افراد ہوں گے جن کے خلاف ان کے والد مقدمات لڑ رہے تھے۔



