سرورققومی خبریں

اعظم خان کی مشکلات بڑھ گئیں، عدالت نے پین کارڈ کیس میں سزا 10 سال کر دی

دو پین کارڈ مقدمات میں ان کی سزا بڑھاتے ہوئے 7 سال سے 10 سال قید کر دی

رام پور 23 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) سماج وادی پارٹی کے سینئر رہنما اعظم خان کو عدالت سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ رام پور کی ایم پی-ایم ایل اے سیشن کورٹ نے دو پین کارڈ مقدمات میں ان کی سزا بڑھاتے ہوئے 7 سال سے 10 سال قید کر دی ہے۔ عدالت نے ان پر عائد جرمانے کی رقم بھی 50 ہزار روپے سے بڑھا کر 5 لاکھ روپے کر دی۔

اسی معاملے میں ان کے بیٹے اور سابق رکن اسمبلی عبداللہ اعظم خان  کی 7 سال قید کی سزا برقرار رکھی گئی ہے، البتہ جرمانے کی رقم 50 ہزار روپے سے بڑھا کر ساڑھے 3 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ 17 نومبر کو ایم پی-ایم ایل اے مجسٹریٹ کورٹ نے عبداللہ اعظم کے دو مبینہ پین کارڈ معاملات میں اعظم خان اور عبداللہ اعظم دونوں کو 7 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ بعد ازاں استغاثہ نے سزا میں اضافے کے لیے سیشن کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ ہفتہ کے روز عدالت نے حکومت کی اپیل منظور کرتے ہوئے اعظم خان کی سزا میں اضافہ کر دیا۔

سیاسی حلقوں میں اس فیصلے کو اعظم خان کے لیے ایک اور بڑا قانونی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق آنے والے دنوں میں ان کے خلاف دیگر مقدمات میں بھی کارروائی تیز ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب، 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران متنازعہ بیان دینے کے معاملے میں بھی اعظم خان کو سزا سنائی جا چکی ہے۔ عدالت نے اس کیس میں انہیں دو سال قید اور 20 ہزار روپے جرمانے کی سزا دی تھی۔

یہ مقدمہ اس وقت درج ہوا تھا جب رام پور کے بھوٹ تھانہ علاقے میں ایک انتخابی روڈ شو کے دوران اعظم خان کا متنازعہ بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا۔ ویڈیو میں وہ اس وقت کے ضلع مجسٹریٹ کے بارے میں نازیبا تبصرہ کرتے ہوئے سنے گئے تھے۔ بعد ازاں الیکشن کمیشن نے اس ویڈیو کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کی تھی، جس کے بعد پولیس میں مقدمہ درج کیا گیا۔

ادھر عبداللہ اعظم کے مبینہ جھوٹے حلف نامہ معاملے کی سماعت اب 12 جون کو ہوگی۔ رام پور عدالت نے اس کیس میں انتظامیہ سے عبداللہ اعظم کی عمر سے متعلق دستاویزات طلب کی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button