قومی خبریں

سپریم کورٹ نے بقرعید سے قبل گاؤ کشی پر مکمل پابندی کی عرضی پر فوری سماعت سے انکار کر دیا

یہ عرضی اکھل بھارت ہندو مہاسبھا کے سابق نائب صدر کی جانب سے دائر کی گئی

نئی دہلی 26 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) سپریم کورٹ نے منگل کے روز بقرعید سے قبل گاؤ کشی پر مکمل پابندی کے قانون پر مؤثر عمل درآمد سے متعلق مفادِ عامہ کی عرضی پر فوری سماعت سے انکار کر دیا۔

چیف جسٹس سوریا کانت اور جسٹس جوئمالیہ باغچی پر مشتمل بنچ نے عرضی گزار کے وکیل سے کہا، “آپ کو یہ ایک دن پہلے یاد آیا۔ اس میں کوئی فوری ضرورت نہیں ہے، شکریہ۔”

وکیل برون کمار سنہا نے عدالت کے روبرو معاملہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پرسوں بقرعید ہے، اس لیے گاؤ کشی مخالف قانون کے نفاذ سے متعلق درخواست پر بدھ کے روز سماعت کی جائے۔

یہ عرضی اکھل بھارت ہندو مہاسبھا کے سابق نائب صدر ستیش کمار اگروال کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ عرضی میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ گائے اور اس کی نسل کے تحفظ کے لیے ذبیحہ مخالف قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔

عرضی میں ریاستی حکومتوں کو یہ ہدایت دینے کی بھی مانگ کی گئی ہے کہ وہ ہر ریاست میں قانونی ضابطوں کے مطابق مذبح خانوں کے نظم و نسق کے لیے رہنما اصول جاری کریں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button