قومی خبریں

مغربی بنگال: شکست کے بعد ترنمول کانگریس میں بغاوت، 101 کونسلرز کے استعفے

انتخابی شکست کے بعد ترنمول کانگریس اندرونی اختلافات اور بغاوت کے بحران سے دوچار ہے۔

کولکاتا 26 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) مغربی بنگال اسمبلی انتخاب میں شکست کے بعد ممتا بنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس کو شدید سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ ریاست کی مختلف نگر پالیکاؤں سے پارٹی کے 101 کونسلرز نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے کر سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ پارٹی کے اندر اختلافات، ناراضگی اور قیادت کے خلاف آوازیں مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق شمالی بیرک پور، گارولیا، کونٹائی، ہالسہار، بھٹپارا اور ڈائمنڈ ہاربر سمیت کئی نگر پالیکاؤں میں ترنمول کانگریس کے کونسلرز نے اجتماعی طور پر استعفے دیے۔ بتایا جا رہا ہے کہ شمالی بیرک پور سے 15، گارولیا سے 18، کونٹائی سے 14، ہالسہار سے 16، بھٹپارا سے 30 جبکہ ڈائمنڈ ہاربر سے 8 کونسلرز نے اپنے عہدوں سے الگ ہونے کا اعلان کیا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق پارٹی کو صرف استعفوں کا ہی سامنا نہیں بلکہ بدعنوانی اور ناجائز وصولی جیسے معاملات نے بھی ترنمول کانگریس کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ مختلف مقدمات میں پارٹی کے 17 کونسلرز اور مقامی لیڈران کی گرفتاری نے بھی تنظیمی ڈھانچے کو کمزور کیا ہے، جس کے باعث زمینی سطح پر کارکنوں میں بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔

ڈائمنڈ ہاربر نگر پالیکا میں اجتماعی استعفے کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے، کیونکہ یہ علاقہ ترنمول کانگریس کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ اسی حلقے سے ممتا بنرجی کے بھتیجے اور سینئر لیڈر ابھشیک بنرجی رکن پارلیمنٹ ہیں۔ اس واقعے کے بعد سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ پارٹی کو اندرونی طور پر متحد رکھنا ممتا بنرجی کے لیے بڑا امتحان بنتا جا رہا ہے۔

چند روز قبل ممتا بنرجی نے پارٹی میٹنگ کے دوران واضح انداز میں کہا تھا کہ جو لیڈر پارٹی چھوڑنا چاہتے ہیں، وہ جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اکیلے بھی پارٹی کو دوبارہ مضبوط بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ تاہم حالیہ استعفوں نے ترنمول کانگریس کے مستقبل اور تنظیمی استحکام پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button