آسام اسمبلی میں یو سی سی بل منظور، کثرتِ ازدواج پر پابندی، لیو اِن ریلیشن شپ رجسٹریشن لازمی
آسام میں یو سی سی قانون نافذ ہونے کے بعد شادی، طلاق اور وراثت کے قوانین میں بڑی تبدیلی
نئی دہلی 27 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) آسام اسمبلی نے آج بدھ کے روز یکساں سول کوڈ (یو سی سی) بل منظور کرلیا، جس کے بعد ریاست میں شخصی قوانین کے نظام میں بڑی تبدیلی سامنے آئی ہے۔ بی جے پی حکومت کی جانب سے پیر کو پیش کیا گیا یہ بل شمال مشرقی ہند کی کسی بھی ریاست میں اپنی نوعیت کا پہلا قانون بن گیا ہے۔
اس قانون کے نفاذ کے ساتھ آسام، اتراکھنڈ اور گجرات کے بعد یو سی سی UCC نافذ کرنے والی تیسری بی جے پی اقتدار والی ریاست بن گئی ہے۔ بل کی منظوری کے دوران اسمبلی میں زبردست ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی اور کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتوں نے اسے سلیکٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا، تاہم حکومت نے اکثریت کی بنیاد پر بل منظور کرلیا۔
نئے قانون کے تحت ریاست میں شادی، طلاق، وراثت اور لیو اِن ریلیشن شپ کے لیے ایک مشترکہ قانونی نظام نافذ ہوگا۔ تاہم درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کو ان کے روایتی رسم و رواج کے تحفظ کے لیے اس قانون سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
بل کی سب سے اہم شق کثرتِ ازدواج پر مکمل پابندی ہے۔ اس کے ساتھ ہی شادیوں اور لیو اِن ریلیشن شپ کی رجسٹریشن بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔ قانون کے مطابق شادی کے 60 دن کے اندر رجسٹریشن کرانا ضروری ہوگا، جبکہ لیو اِن ریلیشن شپ میں ساتھ رہنے کے 30 دن کے اندر اندراج لازمی ہوگا۔
قانون میں لیو اِن ریلیشن شپ سے پیدا ہونے والے بچوں کو مکمل قانونی حیثیت دی گئی ہے، جس کے تحت انہیں خاندانی جائیداد میں حقوق حاصل ہوں گے۔ اگر کسی خاتون کو اس کا ساتھی چھوڑ دے تو وہ عدالت سے مالی معاونت حاصل کرنے کی بھی حقدار ہوگی۔
حکومت نے قانون پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے سخت سزائیں بھی مقرر کی ہیں۔ اگر کوئی جوڑا جان بوجھ کر شادی یا طلاق کی رجسٹریشن مقررہ مدت میں نہ کرائے تو اس پر 10 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
لیو اِن ریلیشن شپ کی رجسٹریشن نہ کرانے پر تین ماہ تک قید، 10 ہزار روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔ اسی طرح کثرتِ ازدواج اختیار کرنے یا حقائق چھپا کر دھوکے سے شادی کرنے والوں کو سات سال تک قید کی سزا دی جاسکے گی۔



