اسپورٹسسرورق

آر پرگنانندھا نے ناروے شطرنج ٹورنامنٹ جیت کر تاریخ رقم کر دی، مگنس کارلسن کو دو بار شکست

پرگنانندھا کی یہ کامیابی ہندوستانی شطرنج کے لیے ایک نئے دور کا آغاز قرار دی جا رہی ہے۔

نئی دہلی 06 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ہندوستانی شطرنج کے ابھرتے ہوئے ستارے اور گرینڈ ماسٹر آر پرگنانندھا نے ناروے شطرنج ٹورنامنٹ کا خطاب اپنے نام کر کے ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔ صرف 20 برس کی عمر میں حاصل کی گئی یہ کامیابی نہ صرف ان کے کیریئر کا اہم ترین سنگِ میل سمجھی جا رہی ہے بلکہ ہندوستانی شطرنج کے لیے بھی ایک یادگار لمحہ قرار دی جا رہی ہے۔

ٹورنامنٹ کے فیصلہ کن مرحلے میں پرگنانندھا نے جرمنی کے مضبوط کھلاڑی ونسنٹ کیمر کے خلاف شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔ کلاسیکل مقابلے میں فتح کے باعث انہیں مکمل تین پوائنٹس ملے، جس کے بعد وہ مجموعی طور پر 18 پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست رہے اور خطاب جیتنے میں کامیاب ہوئے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ آخری دن کے آغاز پر پرگنانندھا درجہ بندی میں تیسرے مقام پر تھے، تاہم غیر معمولی کارکردگی اور بھرپور اعتماد کے ساتھ انہوں نے نہ صرف اپنی پوزیشن بہتر بنائی بلکہ تمام حریفوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ٹورنامنٹ کی ٹرافی اپنے نام کر لی۔

اس کامیابی کو مزید خاص بنانے والی بات یہ رہی کہ پرگنانندھا نے عالمی نمبر ایک اور ناروے کے لیجنڈری کھلاڑی مگنس کارلسن کو اسی ٹورنامنٹ میں دو مرتبہ کلاسیکل مقابلوں میں شکست دی۔ شطرنج کے ماہرین کے مطابق کسی نوجوان کھلاڑی کی جانب سے کارلسن کے خلاف اس نوعیت کی کارکردگی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے اور یہ ان کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے۔

ٹورنامنٹ میں ہندوستان کے عالمی چیمپئن ڈی گوکیش نے بھی شرکت کی تھی، تاہم وہ خطاب کی دوڑ میں آگے نہیں بڑھ سکے۔ ایسے میں پرگنانندھا نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے ہندوستانی شائقین کی امیدوں کو برقرار رکھا اور ملک کے لیے ایک بڑی کامیابی حاصل کی۔

ابتدائی مراحل میں پرگنانندھا کی کارکردگی معمولی رہی تھی اور وہ نمایاں پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے، لیکن مقابلوں کے دوسرے حصے میں انہوں نے غیر معمولی واپسی کی۔ ہر راؤنڈ کے ساتھ ان کا کھیل مزید نکھرتا گیا اور بالآخر انہوں نے سبقت حاصل کرتے ہوئے خطاب جیت لیا۔ ماہرین اس کامیابی کو ان کی ذہنی مضبوطی، مستقل مزاجی اور دباؤ میں بہترین فیصلے کرنے کی صلاحیت کا مظہر قرار دے رہے ہیں۔

خطاب کی دوڑ اس وقت مزید دلچسپ ہو گئی جب امریکی گرینڈ ماسٹر ویزلی سو اپنی برتری برقرار رکھنے میں ناکام رہے اور مقابلہ آرماگیڈن ٹائی بریک تک جا پہنچا۔ اس صورت حال نے پرگنانندھا کے لیے سنہری موقع پیدا کیا، جس سے انہوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور فیصلہ کن فتح حاصل کر لی۔

ناروے شطرنج ٹورنامنٹ میں یہ تاریخی کامیابی پرگنانندھا کو عالمی شطرنج کے ممتاز کھلاڑیوں کی صف میں مزید مضبوط مقام دلانے والی ثابت ہو سکتی ہے۔ اس فتح کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ہندوستانی شطرنج کے عظیم ترین ناموں میں شمار ہونے والے وشواناتھن آنند بھی اپنے کیریئر میں یہ خطاب حاصل نہیں کر سکے تھے۔ ایسے میں پرگنانندھا کی یہ کامیابی ہندوستانی شطرنج کی تاریخ کے اہم ترین ابواب میں شمار کی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button