جرائم و حادثاتقومی خبریں

ہریانہ:خاتون جج ٹنڈر ہنی ٹریپ کا شکار، 52 لاکھ روپے کی دھوکہ دہی؛ عدالت نے ملزم کی ضمانت مسترد کردی

ٹنڈر ہنی ٹریپ اور آن لائن دھوکہ دہی کے مقدمے کی سماعت جاری-

نئی دہلی 15 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)آن لائن ڈیٹنگ ایپ ٹنڈر کے ذریعے دھوکہ دہی کے ایک حیران کن معاملے میں ہریانہ کی ایک خاتون عدالتی افسر مبینہ طور پر ہنی ٹریپ کا شکار ہوگئیں اور ان سے 52 لاکھ روپے سے زائد رقم ہتھیا لی گئی۔ دہلی کی ایک عدالت نے مقدمے کے مرکزی ملزم کی درخواستِ ضمانت مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دستیاب مواد پہلی نظر میں ایک آن لائن رومانس فراڈ کی نشاندہی کرتا ہے۔

ایڈیشنل سیشن جج سوربھ پرتاپ سنگھ لالر نے سماعت کے دوران کہا کہ مقدمے میں سامنے آنے والے مالی لین دین ہنی ٹریپ کے انداز سے مطابقت رکھتے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ تفتیش ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور کئی اہم الیکٹرانک شواہد دستیاب نہیں ہیں، اس لیے ملزم کو اس مرحلے پر ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق نومبر 2025 میں خاتون جج کی ملاقات موبائل ڈیٹنگ ایپ ٹنڈر پر ایک شخص سے ہوئی، جس نے خود کو ایک خفیہ سرکاری محکمے کا افسر ظاہر کرتے ہوئے اپنی شناخت ابھیمانیو وششٹھا کے نام سے کرائی۔ وقت گزرنے کے ساتھ دونوں کے درمیان قریبی تعلق قائم ہوگیا۔

استغاثہ کے مطابق ملزم نے خاتون جج کو زیادہ منافع والی سرمایہ کاری کی اسکیم کا جھانسہ دیا، جس کے بعد انہوں نے 52 لاکھ روپے سے زائد رقم مختلف بینک کھاتوں میں منتقل کی۔ بعد میں نہ تو سرمایہ کاری کا کوئی منافع ملا اور نہ ہی اصل رقم واپس کی گئی، جس کے بعد معاملہ مبینہ دھوکہ دہی کے طور پر سامنے آیا۔

مقدمے کا ایک غیرمعمولی پہلو یہ بھی ہے کہ متاثرہ خاتون جج نے خود شکایت درج نہیں کرائی بلکہ ایف آئی آر ان کی گھریلو ملازمہ کے نام پر درج کرائی گئی۔ عدالت نے اس پہلو پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اصل متاثرہ اور شکایت کنندہ دو مختلف افراد ہیں، جس سے تفتیش غیرضروری طور پر پیچیدہ ہوگئی۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ درج شدہ شکایت حقیقی متاثرہ کی درست عکاسی نہیں کرتی۔ عدالت کے مطابق ایک عدالتی افسر، جس پر قانون اور سچائی کے تحفظ کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، کو خود سامنے آنا چاہیے تھا نہ کہ کسی دوسرے شخص کے نام سے شکایت درج کرانی چاہیے تھی۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگرچہ کسی رومانوی دھوکہ دہی کا شکار ہونا ذاتی شرمندگی کا باعث بن سکتا ہے، تاہم یہ مجرمانہ تحقیقات کے دوران حقائق یا شواہد چھپانے کا جواز نہیں بن سکتا۔ حکم میں کہا گیا کہ کسی بھی افسر کی ذاتی تکلیف کو تفتیش کی شفافیت اور سالمیت پر اثرانداز ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

سماعت کے دوران عدالت نے تحقیقات میں موجود خامیوں پر بھی تشویش ظاہر کی۔ عدالت کے مطابق ٹنڈر پر ہونے والی گفتگو، مکمل واٹس ایپ پیغامات اور کال ریکارڈ جیسے اہم الیکٹرانک شواہد تاحال ریکارڈ کا حصہ نہیں بن سکے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ متاثرہ خاتون کو اپنی مکمل واٹس ایپ چیٹ، ٹنڈر گفتگو اور مالی لین دین کی تفصیلات جلد از جلد تفتیشی افسر یا مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنی چاہئیں۔

عدالت نے ملزم کے طرزِ عمل پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ اہم معلومات چھپانے کی کوشش کرتا دکھائی دیتا ہے۔ حکم کے مطابق ملزم نے صرف خاتون جج کی جانب سے بھیجے گئے پیغامات پیش کیے جبکہ اپنے جوابات منظر عام پر نہیں لائے اور اپنے موبائل فون تک تفتیشی اداروں کو رسائی دینے سے بھی انکار کیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button