سرورققومی خبریں

پاکستان کے لیے مبینہ جاسوسی: سپریم کورٹ نے جیوتی ملہوترا کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا

قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ

نئی دہلی، 06 جون (اردودنیا.اِن/ایجنسیاں): پاکستان کے لیے مبینہ طور پر حساس معلومات فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار ہریانہ کی معروف ٹریول وی لاگر اور یوٹیوبر جیوتی ملہوترا کو سپریم کورٹ سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے جمعہ کے روز ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملات میں کوئی نرمی یا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس ایس سی شرما پر مشتمل بنچ نے سماعت کے دوران کہا کہ جیوتی ملہوترا کے خلاف عائد الزامات انتہائی سنگین نوعیت کے ہیں اور ان کا دفاع مقدمے کی سماعت کے دوران زیر غور آئے گا۔ عدالت نے واضح کیا کہ موجودہ مرحلے پر انہیں ضمانت دینے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

سماعت کے دوران جیوتی ملہوترا کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں 16 مئی 2025 کو گرفتار کیا گیا تھا اور ایک سال سے زائد عرصے سے وہ جیل میں ہیں۔ وکیل نے یہ بھی کہا کہ ان کے موکلہ کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔ تاہم عدالت نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ قومی سلامتی سے متعلق ہے اور الزامات کو ہلکا نہیں سمجھا جا سکتا۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ الزامات کے مطابق جیوتی ملہوترا پاکستان گئیں، وہاں بعض افراد سے ملاقاتیں کیں اور وہ پاکستان ہائی کمیشن کے ایک ایسے اہلکار کے مسلسل رابطے میں تھیں جسے بعد میں حکومت ہند نے ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔ بنچ نے کہا کہ ایسے حالات میں ضمانت نہیں دی جا سکتی اور ملزمہ کو مقدمے کا سامنا کرنا ہوگا۔

جیوتی ملہوترا ہریانہ کے ضلع حصار کی رہنے والی ہیں اور وہ "Travel With Jo” نامی یوٹیوب چینل چلاتی تھیں۔ ہریانہ پولیس کے مطابق تحقیقات کے دوران ایسے شواہد سامنے آئے جن سے ان کے پاکستان ہائی کمیشن کے ایک اہلکار کے ساتھ روابط کا پتہ چلا۔ بعد ازاں ان کے خلاف ملک کی خودمختاری اور سالمیت کو خطرے میں ڈالنے سے متعلق دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

تفتیشی ایجنسیوں کا دعویٰ ہے کہ جیوتی ملہوترا پاکستان بھی گئی تھیں جہاں ان کی ملاقات پاکستان کی سلامتی اور انٹیلی جنس سے وابستہ بعض افراد سے ہوئی۔ حکام کے مطابق پوچھ گچھ کے دوران انہوں نے ان افراد کی شناخت کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔

واضح رہے کہ جیوتی ملہوترا نے اس سے قبل پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ کے 7 مارچ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے بھی ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ اب سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد انہیں مقدمے کی باقاعدہ سماعت کا انتظار کرنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button