سرورققومی خبریں

بریلی: مولانا توصیف رضا قتل معاملہ، مطلوب مرکزی ملزم گرفتار، ٹرین سے دھکا دینے کا دعویٰ

جی آر پی کے مطابق ملزم نے جھگڑے کے بعد مولانا کو ٹرین سے دھکا دینے کی بات قبول کی

نئی دہلی 09 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مولانا توصیف رضا کی موت کے معاملے میں ریلوے پولیس کو اہم کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ بریلی جی آر پی نے اس کیس کے مرکزی ملزم پنکج راجپوت کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ملزم پر دس ہزار روپے کا انعام مقرر تھا اور وہ کافی عرصے سے پولیس کو مطلوب تھا۔

جی آر پی حکام کے مطابق گرفتار شخص مرادآباد کا رہنے والا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جدید نگرانی کے ذرائع اور خفیہ اطلاع کی مدد سے ملزم تک رسائی حاصل کی گئی۔ پلیٹ فارم نمبر دو پر چیکنگ کے دوران اسے حراست میں لیا گیا۔

ریلوے پولیس کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آشوتیش شکلا نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات اور ملزم کے بیان کی روشنی میں مقدمے کی دفعات میں تبدیلی کی جا رہی ہے اور کیس کو غیر ارادی قتل کے زاویے سے بھی دیکھا جائے گا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے پوچھ گچھ کے دوران اعتراف کیا کہ ٹرین میں ہونے والے جھگڑے کے بعد اس نے مولانا کو دھکا دیا تھا۔

تحقیقات کے دوران پولیس نے ٹرین کے متعدد ڈبوں میں سفر کرنے والے دو سو سے زائد مسافروں کے بیانات قلم بند کیے۔ اس کے علاوہ بریلی جنکشن ریلوے اسٹیشن کے سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس سے تفتیش کو اہم سمت ملی۔

یاد رہے کہ 27 اپریل کی صبح مولانا توصیف رضا کی نعش بریلی کے پالپور ریلوے کراسنگ کے قریب ریلوے ٹریک پر ملی تھی۔ وہ ایک مذہبی اجتماع میں شرکت کے بعد یوگ نگری رشی کیش-مظفر پور اسپیشل ٹرین کے ذریعے اپنے آبائی علاقے کشن گنج واپس جا رہے تھے۔

مولانا کی اہلیہ تبسم نے بعد میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کراتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ ان کے شوہر کو ٹرین میں تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد باہر پھینک دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے سے کچھ دیر قبل مولانا نے فون پر بتایا تھا کہ چند افراد ان کے ساتھ جھگڑا کر رہے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے اور تمام شواہد کی جانچ کے بعد آئندہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button