بین ریاستی خبریں

سائبر فراڈ کا مطلوب ملزم گنیش بالاسو کالے تھائی لینڈ سے واپس لایا گیا، ممبئی ہوائی اڈے پر گرفتار

ریڈ کارنر نوٹس کے بعد گنیش بالاسو کالے کو تھائی لینڈ سے واپس لا کر ممبئی میں گرفتار کر لیا گیا۔

ممبئی 11 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے جمعرات کو اعلان کیا کہ انٹرپول کے ریڈ کارنر نوٹس میں شامل مطلوب ملزم گنیش بالاسو کالے کو تھائی لینڈ سے بھارت واپس لانے میں کامیابی حاصل کی گئی ہے۔ ملزم کو ممبئی ہوائی اڈے پر پہنچنے کے بعد مہاراشٹر پولیس کے سائبر سیل نے حراست میں لے لیا۔

سی بی آئی کے مطابق ملزم ایک بڑے سائبر فراڈ معاملے میں مطلوب تھا۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ متاثرین کو آن لائن جز وقتی ملازمتوں کا لالچ دیا جاتا تھا اور انہیں سرمایہ کاری یا ڈپازٹ جمع کرانے پر آمادہ کیا جاتا تھا، جس کے بعد ان کے ساتھ دھوکہ دہی کی جاتی تھی۔

حکام کے مطابق گنیش بالاسو کالے مبینہ طور پر سائبر مالیاتی جرائم میں ملوث افراد کے ایک منظم نیٹ ورک کو چلاتا تھا۔ وہ مختلف افراد کو کمیشن یا منافع کا لالچ دے کر ان کے بینک کھاتے استعمال کرتا تھا۔ بعد ازاں انہی کھاتوں کے ذریعے غیر قانونی رقوم منتقل کی جاتیں اور متعدد بے قصور افراد کو نشانہ بنایا جاتا تھا۔

سی بی آئی نے بتایا کہ ملزمان دھوکہ دہی سے حاصل کی گئی رقوم کو مختلف بینک کھاتوں میں منتقل کرکے اپنی سرگرمیوں کا سراغ چھپانے کی کوشش کرتے تھے۔ تفتیشی اداروں کے مطابق اس طریقۂ کار سے مجرم اپنی شناخت پوشیدہ رکھنے اور رقوم کی نقل و حرکت کو پیچیدہ بنانے میں کامیاب ہوتے تھے، اسی لیے گنیش بالاسو کالے کو اس مبینہ ریکیٹ کا کلیدی منتظم سمجھا جاتا ہے۔

تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ ملزم اپنے ساتھیوں کو موبائل فون اور جعلی سم کارڈ کا انتظام کرنے کی ہدایات دیتا تھا۔ حکام کے مطابق یہ سم کارڈ متاثرین سے رابطہ کرنے، فرضی شناختیں قائم کرنے اور سائبر فراڈ کی کارروائیوں میں استعمال کیے جاتے تھے، جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے مجرموں تک پہنچنا مزید دشوار ہو جاتا تھا۔

سی بی آئی کے مطابق ملزم کی تلاش کے لیے مئی 2026 میں انٹرپول کے ذریعے ریڈ کارنر نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ نوٹس جاری ہونے کے بعد بین الاقوامی سطح پر کارروائی تیز ہوئی اور ملزم کا سراغ تھائی لینڈ میں لگایا گیا۔ تھائی حکام نے 24 مئی کو اسے بنکاک میں حراست میں لے لیا تھا۔

بھارتی وزارتِ خارجہ، وزارتِ داخلہ، بینکاک میں بھارتی سفارت خانے اور تھائی حکام کے درمیان مسلسل رابطوں اور قانونی کارروائیوں کے بعد ملزم کو کامیابی کے ساتھ بھارت کے حوالے کر دیا گیا۔ سی بی آئی نے اس کارروائی کو بین الاقوامی تعاون کی ایک اہم مثال قرار دیا ہے۔

حکام کے مطابق ریڈ کارنر نوٹس جاری ہونے کے تقریباً 20 دن کے اندر ملزم کو تلاش کرکے گرفتار کیا گیا اور بھارت واپس لایا گیا۔ ممبئی پہنچنے کے بعد اسے مہاراشٹر پولیس کے سائبر سیل کے حوالے کر دیا گیا، جو اب اس سے پوچھ گچھ کے ذریعے پورے سائبر فراڈ نیٹ ورک اور دیگر مبینہ ملزمان کے بارے میں معلومات حاصل کرے گا۔

سی بی آئی نے کہا کہ بھارت میں انٹرپول کے قومی رابطہ ادارے کی حیثیت سے وہ مختلف ملکی اور بین الاقوامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ رابطہ قائم رکھتی ہے اور مطلوب ملزمان کی تلاش اور واپسی کے عمل میں تعاون فراہم کرتی ہے۔ حکام کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں مختلف ایجنسیوں کے باہمی تعاون سے 160 سے زائد مطلوب ملزمان کو بیرون ملک سے بھارت واپس لایا جا چکا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button