
مغربی بنگال: آدینہ مسجد کے قریب شیولنگ نصب، آدیناتھ مندر کا دعویٰ پھر زیرِ بحث
آدینہ مسجد کے قریب شیولنگ کی تنصیب نے تاریخی اور قانونی بحث کو ایک مرتبہ پھر تیز کر دیا ہے۔
مالدہ، 27 جولائی (اردو دنیا نیوز/ایجنسیاں): مغربی بنگال کے ضلع مالدہ میں واقع تاریخی آدینہ مسجد کے قریب رودرابھیشیک کی مذہبی تقریب سے پہلے شیولنگ کی تنصیب کے بعد اس مقام کی تاریخی شناخت سے متعلق پرانا تنازع ایک مرتبہ پھر خبروں کی زینت بن گیا ہے۔ اگرچہ اس معاملے کے بعد مختلف حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے، لیکن تقریب کے منتظمین کا کہنا ہے کہ تمام مذہبی رسومات مسجد کے احاطے سے باہر واقع ایک قدیم مندر میں انجام دی جائیں گی۔
منتظمین کے مطابق متعلقہ مندر آدینہ مسجد سے تقریباً پچاس میٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جہاں مقامی عقیدت مند گزشتہ ایک صدی سے زیادہ عرصے سے بھگوان شیو کی عبادت کرتے آ رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ موجودہ تقریب کا مسجد کے اندر یا اس کے محفوظ آثار سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
یہ معاملہ اس لیے بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ بعض ہندو تنظیمیں مسلسل یہ دعویٰ کرتی رہی ہیں کہ موجودہ آدینہ مسجد دراصل قدیم آدیناتھ مندر کی جگہ پر تعمیر کی گئی تھی۔ ان تنظیموں کے مطابق مسجد کے بعض حصوں میں موجود تعمیراتی نقوش اور پتھروں پر ہندو مذہبی علامات اس دعوے کی تائید کرتے ہیں، تاہم اس حوالے سے مختلف آراء موجود ہیں۔
دوسری جانب آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (ASI) کا سرکاری ریکارڈ آدینہ مسجد کو 1373ء میں بنگال سلطنت کے سلطان سکندر شاہ کے دور میں تعمیر ہونے والی تاریخی مسجد قرار دیتا ہے۔ یہ عمارت قومی اہمیت کے حامل محفوظ آثار میں شامل ہے اور اس کی دیکھ بھال اے ایس آئی کے زیرِ انتظام کی جاتی ہے۔
رودرابھیشیک کی تقریب سے قبل شیولنگ کی تنصیب نے ایک مرتبہ پھر اس مقام کی تاریخی حیثیت پر جاری بحث کو تازہ کر دیا ہے۔ اس معاملے سے متعلق مختلف دعوے اور قانونی نکات عدالت میں زیرِ سماعت ہیں، اس لیے حتمی فیصلہ عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔



