بین الاقوامی خبریںسرورق

ایک صدی بعد انصاف: پہلی جنگِ عظیم کے 9,500 پنجابی سپاہیوں کو بالآخر جنگی شہداء کا سرکاری درجہ مل گیا

تاریخ کبھی ہمیشہ خاموش نہیں رہتی، ایک صدی بعد بھی قربانیاں اپنا مقام حاصل کر ہی لیتی ہیں۔

لاہور/لندن، 27 جولائی، (اردو دنیا نیوز/ایجنسیاں) پہلی جنگِ عظیم کے دوران برطانوی افواج میں خدمات انجام دینے والے تقریباً 9 ہزار 500 پنجابی سپاہیوں کی قربانیوں کو ایک صدی بعد باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔ تاریخی ریکارڈ کی ازسرِنو جانچ کے بعد ان سپاہیوں کے نام سرکاری جنگی شہداء (War Dead) کی فہرست میں شامل کر دیے گئے ہیں، جنہیں ماضی میں نوآبادیاتی دور کی پالیسیوں کے باعث یہ اعزاز نہیں مل سکا تھا۔

تحقیقی معلومات کے مطابق یہ سپاہی میدانِ جنگ میں شدید زخمی ہوئے تھے اور بعد ازاں انہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے، لیکن اس وقت انہیں جنگ میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کے زمرے میں شامل نہیں کیا گیا۔ اسی وجہ سے ان کی قبروں کو بھی جنگی قبرستانوں کا درجہ حاصل نہ ہو سکا۔

تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ برسوں تک لاہور عجائب گھر کے تہہ خانے میں محفوظ ہاتھ سے لکھی گئی نایاب دستاویزات نے اس تاریخی اعتراف کی راہ ہموار کی۔ ان ریکارڈز کی ازسرِنو تحقیق سے ہزاروں ایسے سپاہیوں کی شناخت سامنے آئی جن کی قربانیوں کا سرکاری ریکارڈ یا تو نامکمل تھا یا انہیں مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا تھا۔

تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ ان سپاہیوں میں مسلمان، سکھ اور ہندو تینوں مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔ یہ حقیقت اس امر کی غماز ہے کہ برصغیر کے مختلف علاقوں اور برادریوں کے لاکھوں افراد نے پہلی عالمی جنگ کے مختلف محاذوں پر اپنی خدمات انجام دیں اور بڑی تعداد میں اپنی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کیا۔

مورخین کا کہنا ہے کہ پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے دوران متحدہ ہندوستان سے لاکھوں فوجی برطانوی افواج کا حصہ بنے، تاہم نوآبادیاتی نظام کی انتظامی خامیوں اور امتیازی پالیسیوں کے باعث ہزاروں سپاہیوں کی قربانیوں کو سرکاری سطح پر مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔

تاریخ دانوں کے نزدیک حالیہ فیصلہ صرف 9,500 پنجابی سپاہیوں کو انصاف فراہم کرنے تک محدود نہیں بلکہ یہ عالمی جنگوں میں برصغیر کے کردار کو درست تاریخی تناظر میں اجاگر کرنے کی ایک اہم کوشش بھی ہے۔ ان کے مطابق اس اعتراف سے ان گمنام سپاہیوں کی قربانیوں کو وہ مقام ملا ہے جس کے وہ ایک صدی سے منتظر تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button