سرورققومی خبریں

پرامن احتجاج آئینی حق، صرف احتجاج پر طاقت کا استعمال جائز نہیں: سپریم کورٹ، دہلی پولیس کی کارروائی پر سوال

صرف احتجاج کی بنیاد پر لاٹھی چارج نہیں کیا جا سکتا

نئی دہلی، 27 جولائی (اردو دنیا نیوز/ایجنسیاں): ملک میں طلبہ کے حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس کے مبینہ طاقت کے استعمال پر سپریم کورٹ نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ صرف احتجاج کرنے کی وجہ سے مظاہرین پر لاٹھی چارج نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت عظمیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ اگر پولیس کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات سامنے آتے ہیں تو ان کی غیر جانبدار اور آزادانہ تحقیقات کرانا قانون کی بالادستی کے لیے ضروری ہے۔

چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں قائم بنچ نے پیر کو مختلف درخواستوں پر ابتدائی سماعت کے دوران یہ ریمارکس دیے۔ عدالت کے سامنے پیش کی گئی درخواستوں میں الزام لگایا گیا کہ طلبہ احتجاج کے دوران پولیس نے ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کی اور متعدد مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ ایک دوسری درخواست میں بہار کے ضلع سیوان میں احتجاجی مظاہرین کے خلاف مبینہ طور پر خودکار ہتھیار استعمال کیے جانے کا معاملہ بھی عدالت کی توجہ میں لایا گیا، جسے عدالت نے انتہائی سنجیدہ قرار دیا۔

عدالت نے واضح کیا کہ ایسے الزامات کو محض دعویٰ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا بلکہ ان کی آزادانہ جانچ ضروری ہے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور اگر کسی سطح پر قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔

اسی معاملے میں وکیل پریا مشرا کی جانب سے مفادِ عامہ کی عرضی بھی دائر کی گئی ہے، جسے ایڈووکیٹ نریندر مشرا نے عدالت میں پیش کیا۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ متعلقہ حکام کو تمام الیکٹرانک اور ڈیجیٹل شواہد فوری طور پر محفوظ رکھنے کی ہدایت دی جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ رد و بدل یا شواہد کے ضائع ہونے سے بچا جا سکے۔

درخواست گزار نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج، باڈی وارن کیمرے کی ریکارڈنگ، ڈرون ویڈیوز، موبائل فونز سے بنائی گئی ویڈیوز، سوشل میڈیا پر موجود مواد، پولیس وائرلیس ریکارڈ، کال لاگز، کنٹرول روم کی تفصیلات، جی پی ایس ڈیٹا اور دیگر متعلقہ دستاویزات کو محفوظ رکھا جائے اور ضرورت پڑنے پر انہیں عدالت یا تحقیقاتی اداروں کے سامنے پیش کیا جائے۔

عرضی میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ اگر دستیاب سرکاری ریکارڈ، الیکٹرانک شواہد یا دیگر قابل اعتماد مواد سے کسی پولیس اہلکار، سرکاری افسر یا سیکورٹی فورس کے کسی رکن کے خلاف جرم کا ابتدائی ثبوت ملتا ہے تو قانون کے مطابق فوری طور پر ایف آئی آر درج کی جائے اور مقررہ مدت کے اندر غیر جانبدارانہ فوجداری تحقیقات مکمل کی جائیں۔

سپریم کورٹ کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس کے کردار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ پرامن احتجاج آئینی حق ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی اپنی کارروائیاں آئینی اور قانونی حدود کے اندر رہ کر انجام دینی چاہئیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button