بین ریاستی خبریںسرورق

زیادہ تنخواہ لینے والی بیوی کو شوہر سے عبوری نان نفقہ نہیں مل سکتا، بمبئی ہائی کورٹ کا واضح مؤقف

زیادہ تنخواہ لینے والی بیوی کو شوہر سے عبوری نان نفقہ نہیں مل سکتا، بمبئی ہائی کورٹ

ممبئی، 28 جولائی (اردودنیانیوز/ایجنسیاں): بمبئی ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اگر بیوی مالی طور پر خود کفیل ہو اور اس کی آمدنی شوہر سے زیادہ ہو تو اسے عبوری نان نفقہ دینے کی کوئی قانونی ضرورت نہیں بنتی۔ عدالت نے اسی بنیاد پر امریکہ میں مقیم ایک خاتون کی ماہانہ ایک لاکھ روپے عبوری نان نفقہ کی درخواست مسترد کر دی۔

جسٹس بھارتی ڈانگرے اور جسٹس منجوشا دیشپانڈے پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سماعت کے دوران کہا کہ درخواست گزار نیو جرسی (امریکہ) میں رہائش پذیر ہے اور تقریباً آٹھ لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ حاصل کر رہی ہے، جو اس کے شوہر کی آمدنی سے زیادہ ہے۔ ایسی صورت میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اپنے روزمرہ اخراجات پورے کرنے سے قاصر ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا کہ بیرونِ ملک رہائش اختیار کرنے سے کسی شخص کو خود بخود عبوری نان نفقہ کا حق حاصل نہیں ہو جاتا۔ اگر کسی ملک میں رہائش اور زندگی کے اخراجات زیادہ ہیں تو صرف یہی وجہ نان نفقہ دینے کے لیے کافی نہیں سمجھی جا سکتی، خصوصاً جب درخواست گزار اچھی آمدنی رکھتا ہو۔

فیصلے میں عدالت نے شوہر کے پیشے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے شعبے سے وابستہ ہے، جہاں مصنوعی ذہانت (AI) کی تیز رفتار ترقی اور بڑھتے ہوئے مقابلے کے باعث ملازمتوں کے استحکام کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ اس پہلو کو بھی مقدمے کے حالات میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق اس سے پہلے فیملی کورٹ بھی خاتون کی عبوری نان نفقہ کی درخواست مسترد کر چکی تھی اور اسے مقدمے کے اخراجات کی مد میں شوہر کو 25 ہزار روپے ادا کرنے کی ہدایت دی تھی۔ خاتون نے اسی فیصلے کے خلاف بمبئی ہائی کورٹ سے رجوع کیا، تاہم ہائی کورٹ نے فیملی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

دستاویزات کے مطابق میاں بیوی کے دو بچے ہیں۔ بڑا بچہ والد کے ساتھ رہ رہا ہے جبکہ چھوٹا بچہ والدہ کی تحویل میں ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق ہندو میرج ایکٹ کی دفعہ 24 کے تحت عبوری نان نفقہ اسی شریک حیات کو دیا جاتا ہے جس کے پاس عدالتی کارروائی کے دوران اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے مناسب آزادانہ آمدنی موجود نہ ہو۔ مختلف عدالتیں متعدد فیصلوں میں یہ واضح کر چکی ہیں کہ اچھی ملازمت اور مستحکم آمدنی رکھنے والے شریک حیات کو صرف ازدواجی تنازع کی بنیاد پر نان نفقہ دینا قانون کا مقصد نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button