عمان کے قریب جہاز پر امریکی حملے میں تین بھارتی ہلاک، نعشیں برآمد
دیوریا کے شیوانند چورسیا کی موت پر گاؤں سوگوار، اہل خانہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا
تہران/نئی دہلی 11 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)عمان کے ساحل کے قریب امریکی فوجی حملے کا نشانہ بننے والے تجارتی آئل ٹینکر ایم ٹی سیٹے بیلو پر لاپتہ قرار دیے گئے تین بھارتی جہازی عملے کے ارکان کی ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ مرکزی وزیر برائے بندرگاہیں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہیں سربانند سونووال نے جمعرات کو اعلان کیا کہ تینوں ملاحوں کی نعشیں برآمد اور ان کی شناخت مکمل کر لی گئی ہے۔
جاں بحق ہونے والوں میں آدتیہ شرما، شیوانند چورسیا اور پٹنالا سریش شامل ہیں۔ آدتیہ شرما جہاز پر ڈیک کیڈٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، شیوانند چورسیا انجن فٹر تھے جبکہ پٹنالا سریش چیف انجینئر کے عہدے پر فائز تھے۔ تینوں مختلف بھارتی ریاستوں سے تعلق رکھتے تھے اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے سلسلے میں جہاز پر موجود تھے۔
سربانند سونووال نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں اس سانحے کو بھارتی بحری برادری کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ جاں بحق ملاحوں کی میتیں جلد از جلد بھارت منتقل کی جائیں تاکہ ان کی آخری رسومات ادا کی جا سکیں۔ ساتھ ہی حملے میں محفوظ رہنے والے عملے کے ارکان کی فوری وطن واپسی کے انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق حملے کے وقت پلاؤ کے پرچم تلے چلنے والے آئل ٹینکر ایم ٹی سیٹے بیلو پر مجموعی طور پر 28 افراد سوار تھے۔ ان میں 24 بھارتی شہری جبکہ چار غیر ملکی شامل تھے، جن میں دو پاکستانی، ایک یوکرینی اور ایک روسی شہری تھے۔ حملے کے بعد 21 بھارتی ملاحوں کو بحفاظت بچا لیا گیا تھا جبکہ تین افراد لاپتہ ہوگئے تھے۔ کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی تلاش کے بعد تینوں کی نعشیں برآمد ہوئیں۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب جہاز خلیج عمان میں سفر کر رہا تھا۔ امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ نے کارروائی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جہاز بعض طے شدہ ہدایات کی خلاف ورزی کر رہا تھا، جس کے باعث اسے نشانہ بنایا گیا۔ امریکی حکام نے اسے ایک مخصوص فوجی کارروائی قرار دیا، تاہم اس اقدام نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
بھارت نے اس واقعے پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ وزارت خارجہ پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ تجارتی جہازوں اور شہری بنیادی ڈھانچے پر حملے ناقابل قبول ہیں۔ نئی دہلی نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور کشیدگی میں اضافے سے گریز کرتے ہوئے سفارتی ذرائع سے مسائل کا حل تلاش کریں۔
بھارتی حکومت نے عمان میں اپنے سفارتی مشن اور مقامی حکام کے ساتھ مسلسل رابطہ برقرار رکھا ہوا ہے۔ حکام کے مطابق متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے جبکہ حادثے کی مکمل تفصیلات جمع کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خلیج کے سمندری راستوں پر سلامتی کے خدشات پہلے ہی بڑھ چکے ہیں۔ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھے جانے والے ان آبی راستوں میں حالیہ مہینوں کے دوران متعدد کشیدگی آمیز واقعات رونما ہو چکے ہیں، جس کے باعث بین الاقوامی برادری میں تشویش پائی جاتی ہے۔ بھارت نے ایک بار پھر تجارتی جہاز رانی کے تحفظ، بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں آزادانہ نقل و حرکت اور خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
یوپی کے دیوریا میں سوگ کی لہر
جاں بحق ہونے والے ملاحوں میں شامل شیوانند چورسیا اترپردیش کے ضلع دیوریا کے سورولی تھانہ علاقے کے گاؤں سورولی کے رہائشی تھے۔ ان کی موت کی خبر سامنے آتے ہی اہل خانہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا جبکہ پورے گاؤں میں سوگ کی فضا چھا گئی۔ شیوانند ایک شپنگ کمپنی کے جہاز پر ویلڈر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے اور تقریباً سات ماہ قبل روزگار کے سلسلے میں گھر سے روانہ ہوئے تھے۔
اہل خانہ کے مطابق جہاز خلیج عمان کے قریب آبنائے ہرمز سے گزر رہا تھا کہ اچانک حملے کی زد میں آ گیا۔ اس المناک واقعے کی اطلاع سب سے پہلے شیوانند کے چھوٹے بھائی رام پرویش چورسیا نے دی، جو دبئی میں ملازمت کرتے ہیں۔ انہوں نے جمعرات کی صبح فون کے ذریعے گھر والوں کو اس افسوسناک خبر سے آگاہ کیا۔ بعد ازاں ضلع انتظامیہ نے بھی اہل خانہ سے رابطہ کرکے واقعے کی تصدیق کی۔
شیوانند چورسیا اپنے خاندان کے سب سے بڑے بیٹے تھے اور گھر کی کفالت کی بڑی ذمہ داری ان کے کندھوں پر تھی۔ ان کے پسماندگان میں والد رام جی چورسیا، والدہ کلاوتی دیوی، اہلیہ سشیلا دیوی، پانچ سالہ بیٹا راجویر اور دو سالہ بیٹی وینیکا شامل ہیں۔ خبر ملتے ہی اہل خانہ غم سے نڈھال ہو گئے جبکہ گاؤں اور اطراف کے علاقوں سے لوگوں کی بڑی تعداد تعزیت کے لیے ان کے گھر پہنچنے لگی۔
اس سانحے کے بعد دیوریا ضلع میں غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مقامی لوگوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ خاندان کو مناسب مالی امداد اور ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے تاکہ خاندان کو اس مشکل گھڑی میں سہارا مل سکے۔



