قومی خبریں

کانپور میں جعلی ڈگریوں کا بڑا نیٹ ورک بے نقاب، چار ملزمان گرفتار

کانپور پولیس نے جعلی ڈگریوں اور مارک شیٹس بنانے والے بڑے نیٹ ورک کا پردہ فاش..

کانپور 09 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)کانپور پولیس کمشنریٹ کے بیکن گنج تھانے، خصوصی تحقیقاتی ٹیم اور سائبر سیل کی مشترکہ کارروائی میں جعلی ڈگریوں اور مارک شیٹس تیار کرنے والے ایک بڑے نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے۔ پولیس نے چھاپہ مار کر اس مبینہ گروہ کے سرغنہ ضیاء الحسن عرف سمیر عرف عاطف سمیت چار افراد کو گرفتار کر لیا۔

پولیس کے مطابق گرفتار ملزم گزشتہ تقریباً تیرہ برس سے جدید تکنیکی وسائل کے ذریعے مختلف معروف جامعات کے نام پر جعلی ڈگریاں اور تعلیمی اسناد تیار کر کے ملک اور بیرون ملک فراہم کر رہا تھا۔ ابتدائی جانچ میں معلوم ہوا ہے کہ یہ نیٹ ورک ہندوستان کے علاوہ سعودی عرب، کینیڈا اور برطانیہ تک سرگرم تھا۔

تفتیش میں سامنے آیا کہ بتیس سالہ ضیاء الحسن گرافک ڈیزائننگ میں مہارت رکھتا تھا اور بیرون ملک نمبروں کے ذریعے اپنے پورے نیٹ ورک کو چلاتا تھا۔ پولیس کے مطابق وہ برطانیہ منتقل ہونے کی تیاری میں تھا، تاہم اس سے قبل ہی اسے گرفتار کر لیا گیا۔

جانچ کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ گروہ صرف جعلی اسناد تیار نہیں کرتا تھا بلکہ ان کی تصدیق کے عمل میں بھی مداخلت کرتا تھا۔ جب کسی ادارے یا ملک سے تعلیمی اسناد کی جانچ کے لیے رابطہ کیا جاتا تو یہ افراد جعلی تصدیق فراہم کرتے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ایک جعلی ڈگری کے عوض تقریباً دس ہزار روپے وصول کیے جاتے تھے۔

چھاپے کے دوران مختلف جامعات کے نام سے تیار کی گئی آٹھ سو سے زائد جعلی ڈگریاں برآمد ہوئیں جن میں صرف امیدواروں کے نام درج کرنا باقی تھا۔ پولیس نے متعدد جعلی مہریں، مونوگرام، ہولوگرام، خالی دستاویزات اور دیگر سامان بھی قبضے میں لیا ہے۔

کارروائی کے دوران ایک ایپل میک بک پرو، ایک لیپ ٹاپ، ایک ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر، رنگین پرنٹر، ہارڈ ڈسکیں اور دیگر ڈیجیٹل آلات بھی ضبط کیے گئے۔ پولیس کے مطابق گروہ کے دیگر گرفتار ارکان میں نورالدین، حسن آصف اور امیر احمد شامل ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی تیار کردہ جعلی ڈگریوں کی بنیاد پر بڑی تعداد میں افراد ملک اور بیرون ملک مختلف ملازمتوں میں کام کر رہے ہیں۔ اب تحقیقاتی ٹیم ان تمام افراد کی نشاندہی کرنے کی کوشش کر رہی ہے جنہوں نے یہ جعلی اسناد حاصل کیں یا اس نیٹ ورک سے کسی نہ کسی شکل میں وابستہ رہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button