اراضی معاملے میں یوسف پٹھان مشکل میں، ہائی کورٹ نے قبضے کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا
زمین الاٹ ہی نہیں ہوئی تھی تو قبضہ کیسے حاصل کیا گیا؟ گجرات ہائی کورٹ
نئی دہلی 09 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)سابق ہندوستانی کرکٹر اور ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ یوسف پٹھان کو وڈودرا کی ایک متنازعہ اراضی سے متعلق معاملے میں گجرات ہائی کورٹ کی سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ عدالت نے سماعت کے دوران زمین پر قبضے کے قانونی جواز پر سوال اٹھاتے ہوئے متعدد اہم ریمارکس دیے۔
دو رکنی بنچ کے سامنے یوسف پٹھان کی جانب سے سنگل جج کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی۔ ان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ 1999 کی ریاستی پالیسی کے تحت بین الاقوامی کرکٹرز کو زمین الاٹ کیے جانے کی گنجائش موجود تھی اور اسی بنیاد پر وڈودرا میونسپل کارپوریشن کی قائمہ کمیٹی نے 2012 میں ایک قرارداد منظور کی تھی۔
عدالت نے اس دلیل پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ قائمہ کمیٹی کی قرارداد زمین کی حتمی الاٹمنٹ کے مترادف نہیں ہوتی۔ بنچ نے استفسار کیا کہ اگر زمین باضابطہ طور پر الاٹ نہیں ہوئی تھی تو اس پر قبضہ کس بنیاد پر کیا گیا۔
سماعت کے دوران عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ زمین کا قبضہ دینے والا سرکاری افسر کون تھا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر کسی اہلکار نے قواعد کے خلاف کارروائی کی ہے تو اس کے خلاف بھی تحقیقات کا حکم دیا جا سکتا ہے۔
ہائی کورٹ نے یوسف پٹھان سے یہ بھی دریافت کیا کہ وہ زمین کب تک خالی کریں گے۔ عدالت نے واضح کیا کہ سرکاری اراضی پر غیر مجاز قبضہ اور باڑ لگانا قانونی طور پر سنگین معاملہ ہے۔ بنچ نے کہا کہ اگر مقررہ مدت میں زمین خالی نہ کی گئی تو متعلقہ حکام کو قبضہ واپس لینے کی ہدایت دی جا سکتی ہے۔
عدالت نے مزید کہا کہ چونکہ زمین درخواست گزار کے قبضے میں رہی ہے، اس لیے مارکیٹ ریٹ کے مطابق کرایہ یا معاوضہ بھی ادا کرنا پڑ سکتا ہے، خواہ زمین کا عملی استعمال کیا گیا ہو یا نہیں۔
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب یوسف پٹھان نے وڈودرا میونسپل کارپوریشن کے 6 جون 2024 کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ کارپوریشن نے بغیر عوامی نیلامی کے 99 سالہ لیز پر زمین دینے کی تجویز مسترد کر دی تھی۔ اس کے علاوہ ریاستی حکومت کے 9 جون 2014 کے اس فیصلے کو بھی چیلنج کیا گیا تھا جس میں زمین کی الاٹمنٹ سے انکار کیا گیا تھا۔
قبل ازیں گجرات ہائی کورٹ کے سنگل جج نے درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یوسف پٹھان کے پاس زمین کی الاٹمنٹ یا قبضے سے متعلق کوئی قانونی دستاویز موجود نہیں تھی، اس کے باوجود پلاٹ کے گرد چاردیواری تعمیر کرکے قبضہ کیا گیا، جو قانون کے مطابق درست نہیں۔
معاملے کی آئندہ سماعت 15 جون کو مقرر کی گئی ہے، جہاں عدالت زمین خالی کرنے کی مدت اور ممکنہ مالی ذمہ داریوں کے بارے میں مزید غور کرے گی۔



