بین الاقوامی خبریںسرورق

ایران-امریکہ کشیدگی جنگ میں تبدیل، ایران کا بحرین، کویت اور اردن میں امریکی اڈوں پر حملوں کا دعویٰ

ایران نے مذاکرات میں بہت دیر کر دی، اب اس کی قیمت چکانا ہوگی: ٹرمپ

واشنگٹن/تہران: مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اب کھلے تصادم کی شکل اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ آبنائے ہرمز کے قریب امریکی اپاچے ہیلی کاپٹر پر حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان فوجی کارروائیاں تیز ہو گئی ہیں، جس کے نتیجے میں خطے میں جنگ جیسے حالات پیدا ہو گئے ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کی فوجی صلاحیت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ اور فضائیہ کو شدید نقصان پہنچا ہے اور تہران اب کمزور پوزیشن میں ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے ایک فائدہ مند معاہدے پر فیصلہ کرنے میں بہت زیادہ وقت ضائع کیا اور اب اسے اس کی قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔

ادھر امریکی فضائیہ نے جنوبی ایران کے متعدد علاقوں میں بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق قشم، اصفہان، بندر عباس، بوشہر، جسک، اہواز اور دیگر مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ قشم جزیرے میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ سیریک میں پانی کی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ اہواز، جو ایران کے تیل کے اہم مراکز میں شمار ہوتا ہے، وہاں بھی حملوں کی خبریں سامنے آئی ہیں۔

چینی خبر رساں ایجنسی سنہوا کے مطابق ایرانی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ بندر عباس، قشم، سیریک اور میناب سمیت کئی علاقوں میں فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا ہے اور رات بھر دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔

امریکی کارروائی کے جواب میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین، کویت اور اردن میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو ڈرون اور بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق متعدد ڈرون اور کم از کم چار بیلسٹک میزائل امریکی اڈوں کی جانب داغے گئے۔

ایران نے خاص طور پر بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں فلیٹ کے ہیڈکوارٹر پر حملے کا دعویٰ کیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق علی الصبح ہونے والی اس کارروائی میں ڈرونز اور میزائل استعمال کیے گئے۔ ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک میزائل امریکی فوجی تنصیب کے اندر گرا۔ حملے کے بعد بحرین میں ہنگامی سائرن بجائے گئے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی گئی۔ مقامی ذرائع نے متعدد دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے، تاہم امریکہ نے ابھی تک کسی بڑے نقصان کی تصدیق نہیں کی۔

کویت میں بھی صورتحال کشیدہ رہی جہاں ایران نے علی السلیم ایئربیس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ کویتی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے کئی مشتبہ اہداف کو راستے میں ہی روک لیا۔ حکومت نے شہریوں سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔

دوسری جانب اردن کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران سے آنے والے پانچ میزائل فضا ہی میں تباہ کر دیے۔ فوجی حکام کے مطابق تمام میزائل الازراق کے علاقے کی طرف بڑھ رہے تھے، تاہم انہیں کامیابی سے روک لیا گیا۔ میزائلوں کا کچھ ملبہ اردن کی سرزمین پر گرا، لیکن کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

مشرق وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی صورتحال کے باعث عالمی برادری میں تشویش بڑھ گئی ہے، جبکہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی رابطے تقریباً معطل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ خطے میں کشیدگی کے مزید پھیلنے کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button