بین ریاستی خبریں

بی جے پی رہنما نے کیرالا وقف بورڈ میں غیر مسلم اراکین شامل نہ کرنے پر ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی

کیرالا وقف بورڈ میں غیر مسلم اراکین کی عدم تقرری، ہائی کورٹ نے حکومت سے جواب طلب کیا

کوچی 11 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) کیرالا ریاستی وقف بورڈ کے کام کاج پر عدالتی جانچ شروع ہوگئی ہے، کیونکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی نائب صدر شون جارج نے کیرالا ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ بورڈ ترمیم شدہ وقف قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کام کر رہا ہے اور اس کے تمام فیصلوں کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے۔

مفاد عامہ کی عرضی میں کہا گیا ہے کہ ریاستی حکومت نے وقف قانون میں 2025 کی ترمیم کے تحت لازمی قرار دیے گئے غیر مسلم اراکین کو بورڈ میں شامل نہیں کیا، جس کے باعث موجودہ بورڈ کی تشکیل قانون کے مطابق نہیں ہے۔

چیف جسٹس سومن سین اور جسٹس وی ایم سیام کمار پر مشتمل دو رکنی بنچ نے جمعرات کو ریاستی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے اسے اپنا موقف پیش کرنے کے لیے مہلت دی۔ عدالت نے معاملے کی اگلی سماعت دو ہفتے بعد مقرر کی ہے۔

عرضی میں کہا گیا ہے کہ 8 اپریل 2025 سے نافذ ہونے والی ترمیم کے بعد ریاستی وقف بورڈوں میں، عہدہ بہ عہدہ شامل اراکین کے علاوہ، کم از کم دو غیر مسلم اراکین کی شمولیت لازمی قرار دی گئی ہے۔

درخواست گزار کے مطابق کیرالا حکومت نے 4 فروری 2026 کے حکمنامے کے ذریعے بورڈ میں نو اراکین مقرر کیے، جن میں تمام اراکین مسلمان ہیں، جبکہ باقی دو اراکین بعد میں مقرر کرنے کی بات کہی گئی۔

عرضی میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئندہ کسی وقت قانون پر عمل درآمد کی یقین دہانی موجودہ صورت حال کو قانونی نہیں بنا سکتی اور حکومت نے لازمی قانونی تقاضے کو نظر انداز کیا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ چونکہ بورڈ کی تشکیل قانون کے مطابق نہیں ہوئی، اس لیے اسے اختیارات استعمال کرنے کا جواز حاصل نہیں۔ عرضی کے مطابق بورڈ کی انتظامی، نگرانی سے متعلق اور نیم عدالتی نوعیت کی کارروائیوں کو بھی کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔

درخواست میں نشاندہی کی گئی ہے کہ وقف بورڈ کو وقف املاک کی نگرانی، انتظامی منصوبوں کی منظوری اور منتظمین کی تقرری یا برطرفی جیسے وسیع اختیارات حاصل ہیں، اس لیے قانونی طور پر درست تشکیل نہ رکھنے والا بورڈ ایسے اختیارات استعمال نہیں کر سکتا۔

عرضی میں منمبم وقف اراضی تنازع کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس میں 600 سے زائد خاندان متاثر بتائے جاتے ہیں۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ بورڈ کی موجودہ تشکیل نے اس معاملے میں عوامی بے چینی کو بڑھایا ہے۔

شون جارج نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ کیرالا وقف بورڈ کو ترمیم شدہ قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا جائے اور موجودہ شکل میں اس کے تمام فیصلوں کو کالعدم قرار دیا جائے۔ ساتھ ہی ریاستی حکومت کو فوری طور پر دو غیر مسلم اراکین کی تقرری کا حکم دینے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔

عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے 2025 کے وقف ترمیمی قانون کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت کے دوران اس مخصوص شرط پر کوئی روک نہیں لگائی تھی، البتہ ریاستی وقف بورڈوں میں غیر مسلم اراکین کی تعداد تین سے زیادہ نہ ہونے کی حد مقرر کی تھی۔

اس مقدمے پر کیرالا ہائی کورٹ کے آئندہ فیصلے کا انتظار کیا جا رہا ہے، کیونکہ اس کے اثرات نہ صرف وقف انتظامیہ بلکہ وقف املاک سے متعلق جاری دیگر تنازعات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button