چار سال سے زائد عرصے سے قید کشمیری انسانی حقوق کارکن خرم پرویز کو این آئی اے کیس میں ضمانت
یو اے پی اے مقدمے میں گرفتار خرم پرویز کو چار برس بعد ضمانت مل گئی
نئی دہلی 11 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دہلی ہائی کورٹ نے کشمیر کے معروف انسانی حقوق کارکن خرم پرویز کو ایک اہم قانونی راحت دیتے ہوئے این آئی اے کے درج کردہ مقدمے میں ضمانت منظور کر لی ہے۔ خرم پرویز نومبر 2021 سے حراست میں تھے اور ان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کے تحت کارروائی کی گئی تھی۔
عدالتی ذرائع کے مطابق جسٹس نوین چاولہ اور جسٹس رویندر دوڈیجہ پر مشتمل ڈویژن بنچ نے خرم پرویز کی اپیل پر سماعت کے بعد ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے کو منسوخ کر دیا جس میں دسمبر 2024 میں ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔ ہائی کورٹ نے متعدد شرائط کے ساتھ انہیں ضمانت دینے کا حکم صادر کیا۔
خرم پرویز کی گرفتاری 22 نومبر 2021 کو اس وقت عمل میں آئی تھی جب قومی تحقیقاتی ایجنسی نے ان کے دفتر پر کارروائی کی تھی۔ گرفتاری کے بعد اقوام متحدہ سمیت کئی بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں نے اس معاملے پر تشویش ظاہر کی تھی اور ان کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔
این آئی اے کی جانب سے خرم پرویز پر یو اے پی اے کی مختلف دفعات کے تحت مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ ان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے مالی معاونت، مبینہ سازش، افراد کی بھرتی اور ممنوعہ تنظیموں سے وابستگی جیسے الزامات شامل ہیں۔ خرم پرویز اور ان کے حامی ان الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔
خرم پرویز اس سے قبل بھی 2016 میں خبروں میں آئے تھے جب کشمیر میں برہان وانی کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے دوران انہیں دہلی کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے سے حراست میں لیا گیا تھا۔ اس وقت وہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیے جنیوا روانہ ہو رہے تھے۔ بعد ازاں عدالت کی مداخلت کے بعد ان کے خلاف نافذ پبلک سیفٹی ایکٹ واپس لے لیا گیا تھا۔
انسانی حقوق کے میدان میں خرم پرویز کی خدمات کو عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ سال 2023 میں انہیں مارٹن اینلز ایوارڈ کے فاتحین میں شامل کیا گیا، جبکہ 2006 میں انہیں ری باک ہیومن رائٹس ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔
خرم پرویز کی زندگی میں ایک بڑا سانحہ 2004 میں پیش آیا تھا جب شمالی کشمیر کے لولاب علاقے میں ایک دھماکے کے دوران وہ شدید زخمی ہو گئے تھے۔ اس واقعے میں ان کی ایک ٹانگ ضائع ہو گئی تھی جبکہ ان کی ساتھی آسیہ جیلانی جانبر نہ ہو سکیں۔
دہلی ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کو انسانی حقوق کے حلقوں میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ مقدمے کی قانونی کارروائی بدستور جاری رہے گی اور آئندہ سماعتوں میں مزید پیش رفت متوقع ہے



