سرورققومی خبریں

آر ایس ایس کے رجسٹریشن اور ٹیکس ریکارڈ عوام کے سامنے لائے جائیں: پریانک کھرگے

آر ایس ایس کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جا سکتا، رجسٹریشن سے استثنیٰ کا ثبوت دیں، پریانک کھرگے

بنگلورو 11 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھرگے نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تنظیم خود کو حکومت کے سامنے جوابدہی اور رجسٹریشن کے تقاضوں سے مستثنیٰ سمجھتی ہے تو اسے متعلقہ قانونی دستاویزات عوام کے سامنے پیش کرنی چاہئیں۔

پریانک کھرگے نے کہا کہ آر ایس ایس کے ذمہ داران انہیں اپنے دفتر بلا سکتے ہیں یا پھر ان کے دفتر آ کر وہ قانون دکھا سکتے ہیں جس کے تحت تنظیم کو آئینی اور قانونی تقاضوں سے استثنیٰ حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کا مؤقف غلط ثابت ہو جائے تو وہ معذرت کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن اگر ایسا نہ ہو تو آر ایس ایس کو اپنی خامیوں کی اصلاح کرنی چاہیے۔

کانگریس رہنما نے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے اس بیان پر بھی سوال اٹھایا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آر ایس ایس ایک "افراد کے مجموعے” کی حیثیت سے کام کرتی ہے اور اسے الگ رجسٹریشن کی ضرورت نہیں۔ موہن بھاگوت نے ماضی کے ایک عدالتی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ تنظیم کو اس حیثیت کے باعث چند مالیاتی رعایتیں حاصل رہی ہیں۔

پریانک کھرگے نے گزشتہ ماہ آر ایس ایس اور اس سے وابستہ ڈھائی ہزار سے زائد تنظیموں کے مالی اور انتظامی معاملات کا عوامی آڈٹ کرانے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں غیر سرکاری تنظیموں اور بیرونی فنڈنگ حاصل کرنے والے اداروں پر سخت نگرانی کی جاتی ہے، اس لیے آر ایس ایس کی سرگرمیوں اور مالی معاملات میں بھی شفافیت ہونی چاہیے۔

انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک بیان میں وزیر اعظم نریندر مودی کے سیاسی زندگی میں آنے سے قبل مختلف ممالک کے دوروں کے اخراجات پر بھی سوال اٹھایا تھا۔ کھرگے نے پوچھا تھا کہ ان سفروں کے اخراجات کس نے برداشت کیے اور کیا ان میں آر ایس ایس کا کوئی کردار تھا۔

پریانک کھرگے نے کہا کہ جس ملک میں ریڑھی فروش کو رجسٹریشن کرانا پڑتا ہے، مندروں کو ملنے والے عطیات کا حساب دینا پڑتا ہے اور شہریوں کو ٹیکس گوشوارے جمع کرانے ہوتے ہیں، وہاں آر ایس ایس کو ان تقاضوں سے مستثنیٰ نہیں قرار دیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ صرف خود کو "افراد کا مجموعہ” قرار دینا قانونی جوابدہی سے بچنے کا جواز نہیں بن سکتا۔

ادھر بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما سی ٹی روی نے آر ایس ایس کے دفاع میں کہا کہ ماضی میں جواہر لال نہرو اور اندرا گاندھی بھی تنظیم پر پابندی لگانے میں ناکام رہے تھے۔ اس پر ردعمل دیتے ہوئے پریانک کھرگے نے کہا کہ تاریخ کے حقائق مختلف ہیں اور آر ایس ایس کی قیادت نے مختلف ادوار میں حکومتوں کے ساتھ مفاہمت کی کوششیں کی تھیں۔

سیاسی حلقوں میں آر ایس ایس کی قانونی حیثیت، رجسٹریشن اور مالیاتی شفافیت کے حوالے سے جاری یہ بحث ایک بار پھر قومی سطح پر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button