بنگلورو میں چھ سالہ وینّیلا کی موت قتل نکلی، ماں اور اس کے ساتھی پر الزام
چھ سالہ بچی وینّیلا کی موت معمہ نہیں، قتل تھا: بنگلورو پولیس نے ہولناک تفصیلات سے پردہ اٹھا دیا
بنگلورو 11 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) کرناٹک کے شہر بنگلورو کے کدوگوڈی علاقے میں چھ سالہ وینّیلا کی پراسرار موت کے تقریباً تین ماہ بعد پولیس تحقیقات میں چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ پولیس نے بچی کی ماں پریانکا پی اور اس کے مبینہ ساتھی موہن جے مہاننگپا کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق ابتدائی جانچ میں اس واقعے کو غیر فطری موت قرار دیا گیا تھا، تاہم بچی کے والد پروین باسپا کے شبہات کے بعد معاملے کی ازسرِ نو چھان بین کی گئی۔ تحقیقات کے دوران ایسے شواہد سامنے آئے جن کی بنیاد پر پولیس نے اسے قتل قرار دیا۔
تحقیقاتی حکام کا کہنا ہے کہ موہن نے مبینہ طور پر وینّیلا کو اس وقت تشدد کا نشانہ بنایا جب اس نے آئس کریم مانگا۔ الزام ہے کہ اس نے بچی کے پیٹ پر زور سے مکا مارا جس سے وہ شدید درد میں مبتلا ہو کر رونے لگی۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ بعد میں اس کا گلا دبا کر اسے ہلاک کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق قتل کے بعد پریانکا اور موہن تقریباً بارہ گھنٹے تک بچی کی لاش کے ساتھ رہے اور گاڑی میں شہر کے مختلف علاقوں میں گھومتے رہے، جس کے بعد موت کی اطلاع دی گئی۔
پروین باسپا نے اپنی شکایت میں بتایا کہ ان کی شادی 2007 میں ہوئی تھی اور ان کی دو بیٹیاں ہیں۔ ان کے مطابق پریانکا نے 2025 کے آخر میں اپنے کالج کے دوست موہن سے دوبارہ تعلق قائم کیا اور بعد میں طلاق کی کارروائی کے دوران بنگلورو میں اس کے ساتھ رہنے لگی۔
بڑی بیٹی اپنے والد کے ساتھ داونگیری میں رہ رہی تھی جبکہ وینّیلا اپنی ماں کے ساتھ مقیم تھی۔ پولیس ذرائع کے مطابق موہن بھی اپنی بیوی اور بچوں کو چھوڑ چکا تھا اور اس نے ایک گھر خرید رکھا تھا جہاں پریانکا اپنی بیٹی وینّیلا کے ساتھ رہتی تھی۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ وینّیلا کو مبینہ طور پر بار بار بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا تھا کیونکہ موہن اسے اپنے اور پریانکا کے تعلقات میں رکاوٹ سمجھتا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں ملزمان متعدد مواقع پر بچی کے ساتھ ناروا سلوک کرتے رہے۔
پروین باسپا نے بتایا کہ 25 مارچ کو انہیں پریانکا کے بھائی نے وینّیلا کی موت کی اطلاع دی تھی۔ جب انہوں نے واقعے کی تفصیلات معلوم کرنے کی کوشش کی تو پریانکا نے مختلف مواقع پر متضاد بیانات دیے۔ ایک بار اس نے کہا کہ بچی نے گزشتہ رات بریانی کھائی تھی، جبکہ دوسری بار دعویٰ کیا کہ اسے آئس کریم دی گئی تھی اور بعد میں وہ ائیرکنڈیشنڈ گاڑی میں سو گئی تھی جبکہ وہ اور موہن ایک سالگرہ کی تقریب میں گئے تھے۔
ان متضاد بیانات کے باعث پروین کو شبہ ہوا۔ انہوں نے پوسٹ مارٹم رپورٹ حاصل کرکے برطانیہ میں مقیم اپنے ایک رشتہ دار، جو بچوں کے امراض کے ماہر ڈاکٹر ہیں، کو دکھائی۔ ڈاکٹر نے موت کے حالات پر خدشات ظاہر کیے جس کے بعد پروین نے پولیس سے رجوع کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ان کی بیٹی کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد دم گھونٹ کر ہلاک کیا گیا۔
شکایت میں یہ بھی الزام لگایا گیا کہ پریانکا اور موہن نئی زندگی شروع کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے اور مصنوعی طریقۂ تولید کے ذریعے بچے کی پیدائش کے امکانات پر غور کر رہے تھے۔ پروین کے مطابق وینّیلا ان منصوبوں میں رکاوٹ بن رہی تھی، اسی لیے اسے راستے سے ہٹانے کی سازش کی گئی۔
تحقیقات کے بعد پولیس نے دونوں ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ حکام فرانزک سائنس لیبارٹری کی رپورٹ اور ماہرین کی رائے کا انتظار کر رہے ہیں جبکہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔



