تمل ناڈو: 3 سالہ بچی سے مبینہ جنسی زیادتی، علاج کے دوران موت؛ بہار کا مزدور گرفتار
بہار سے تعلق رکھنے والے 19 سالہ مہاجر مزدور کو گرفتار
چنئی 15 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) تمل ناڈو کے ضلع تروولور کے کمیڈی پونڈی علاقے میں پیش آنے والی ایک دلخراش واردات نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ مبینہ جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی 3 سالہ معصوم بچی شدید زخمی حالت میں ملنے کے بعد دورانِ علاج دم توڑ گئی۔ پولیس نے اس معاملے میں بہار سے تعلق رکھنے والے 19 سالہ مہاجر مزدور کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ مقدمے کی تحقیقات جاری ہیں۔
اطلاعات کے مطابق بچی اتوار کے روز اپنے گھر کے قریب موجود تھی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ملزم نے اسے بسکٹ کا لالچ دے کر اپنے ساتھ لے گیا۔ کچھ دیر بعد جب بچی گھر واپس نہیں لوٹی تو اہل خانہ نے اس کی تلاش شروع کر دی۔ علاقے کے متعدد افراد بھی تلاش میں شامل ہوگئے، لیکن کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ چند گھنٹوں بعد ایک ایسا منظر سامنے آئے گا جو ہر آنکھ کو اشکبار کر دے گا۔
تلاش کے دوران محلے کی ایک خاتون نے ایک سنسان اور جھاڑیوں والے مقام پر بچی کو شدید زخمی حالت میں پڑا دیکھا۔ خاتون نے فوراً شور مچایا جس کے بعد مقامی افراد موقع پر پہنچے۔ بچی کی حالت انتہائی نازک تھی۔ لوگوں نے وقت ضائع کیے بغیر اسے قریبی اسپتال منتقل کیا جہاں ڈاکٹروں نے فوری علاج شروع کیا۔
اسپتال ذرائع کے مطابق بچی کو انتہائی تشویشناک حالت میں لایا گیا تھا۔ طبی عملے نے اسے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی، تاہم اندرونی زخموں کی شدت کے باعث وہ زندگی کی جنگ ہار گئی۔ پیر کے روز بچی کے انتقال کی خبر سامنے آئی تو پورے علاقے میں سوگ کی فضا چھا گئی۔
پولیس حکام نے بتایا کہ واقعے کے سلسلے میں گرفتار شخص کی شناخت وبن منچ کے طور پر ہوئی ہے جو بہار کا رہائشی ہے اور علاقے میں مزدوری کرتا تھا۔ ابتدائی تحقیقات کے بعد اسے حراست میں لیا گیا اور بعد میں باضابطہ طور پر گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف بچوں کو جنسی جرائم سے تحفظ فراہم کرنے والے قانون پوکسو ایکٹ اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ تفتیشی ٹیم نے جائے وقوعہ سے شواہد جمع کر لیے ہیں جبکہ فارنسک جانچ سمیت دیگر قانونی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔
واقعے کے بعد بعض حلقوں میں یہ افواہیں گردش کرتی رہیں کہ جرم میں ایک سے زائد افراد ملوث ہوسکتے ہیں، تاہم پولیس نے ایسی اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اب تک کی تحقیقات میں صرف ایک شخص کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ حکام کے مطابق چند دیگر افراد سے پوچھ گچھ ضرور کی گئی، لیکن کسی دوسرے شخص کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا۔
معاملے کی سنگینی کے پیش نظر پولیس کے اعلیٰ افسران بھی تحقیقات کی نگرانی کر رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مقدمے کو مضبوط بنانے کے لیے تمام سائنسی اور قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ عدالت میں ٹھوس شواہد پیش کیے جا سکیں۔
اس افسوسناک واقعے پر سیاسی حلقوں کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آیا ہے۔ ڈی ایم کے رہنما ٹی کے ایس ایلنگوون نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے قصورواروں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کے واقعات پر قابو پانے کے لیے حکومت کو مزید سخت اقدامات کرنے چاہئیں۔
دوسری جانب انّاملائی نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ معصوم بچی کی موت نے پورے معاشرے کو صدمے میں مبتلا کر دیا ہے اور ایسے جرائم کے خلاف مؤثر حکمت عملی اپنانا وقت کی ضرورت ہے۔
بچی کی موت کے بعد علاقے میں خوف، غم اور بے چینی کی کیفیت دیکھی جا رہی ہے۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ معصوم بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مقدمے کی تیز رفتار سماعت کر کے ملزم کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے۔



