بین الاقوامی خبریںسرورق

107 دن کی امریکہ۔ایران جنگ کا قہر، ہزاروں ہلاکتیں، لاکھوں بے گھر اور کھربوں ڈالر کا نقصان؛ سب سے زیادہ قیمت کس نے چکائی؟

امریکہ ایران جنگ 2026: ہزاروں ہلاکتیں، لاکھوں متاثرین اور عالمی معیشت کو کھربوں ڈالر کا دھچکا

واشنگٹن/تہران، 15 جون (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز)28 فروری 2026 کی صبح دنیا ایک ایسے تنازع کی گواہ بنی جس نے مشرق وسطیٰ کے سیاسی نقشے سے لے کر عالمی معیشت تک ہر چیز کو ہلا کر رکھ دیا۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی فوجی کارروائی دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑے علاقائی تصادم میں تبدیل ہوگئی۔ 107 دن تک جاری رہنے والی اس جنگ کا اختتام اگرچہ امن معاہدے پر ہوا، لیکن اس دوران ہونے والی تباہی نے لاکھوں زندگیاں متاثر کر دیں۔

یہ جنگ صرف میزائلوں اور بمباری تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے عالمی تجارت، تیل کی منڈی، سمندری راستوں، مالیاتی نظام اور عام شہریوں کی زندگیوں پر بھی گہرے اثرات چھوڑے۔

ابتدائی دنوں میں خونریز جھڑپیں

جنگ کے پہلے چند دنوں ہی میں شدید فضائی حملوں اور جوابی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آنے لگیں۔ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق پہلے دس دنوں میں سینکڑوں شہری اور ہزاروں فوجی مارے گئے یا زخمی ہوئے۔ مختلف ذرائع کے مطابق 15 مارچ تک تقریباً 390 شہریوں اور 3910 فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آچکی تھیں۔

ان ابتدائی حملوں میں تعلیمی ادارے، رہائشی علاقے اور فوجی تنصیبات بھی زد میں آئیں۔ بعض رپورٹوں میں دعویٰ کیا گیا کہ ہرمزگان صوبے کے ایک گرلز اسکول پر حملے میں بڑی تعداد میں طالبات جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں، جس نے عالمی سطح پر شدید ردعمل پیدا کیا۔

ہلاکتوں کے اعداد و شمار پر اختلاف

اس پوری جنگ کے دوران ہلاکتوں کے بارے میں مختلف ذرائع نے مختلف اعداد و شمار پیش کیے۔ بعض رپورٹس کے مطابق جنگ کے اختتام تک ہزاروں افراد مارے گئے جبکہ دسیوں ہزار زخمی ہوئے۔کچھ جنگی تجزیاتی اداروں کے مطابق پانچ ہزار سے زائد ایرانی فوجی ہلاک ہوئے جبکہ متعدد رپورٹوں میں 1508 ایرانی شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا۔ دوسری جانب امریکی فوج کو بھی جانی نقصان اٹھانا پڑا اور 13 فوجیوں کی ہلاکت جبکہ تقریباً 200 کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔اسرائیل میں بھی ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور ہزاروں زخمیوں کی رپورٹس سامنے آئیں۔

لاکھوں افراد بے گھر ہوگئے

جنگ کا سب سے سنگین انسانی اثر بڑے پیمانے پر نقل مکانی کی صورت میں سامنے آیا۔ مختلف اندازوں کے مطابق لاکھوں ایرانی شہری اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

بعض ذرائع نے بے گھر افراد کی تعداد 27 لاکھ سے زیادہ بتائی جبکہ کچھ اندازوں میں یہ تعداد 39 لاکھ تک پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا۔ متاثرہ علاقوں میں خوراک، ادویات اور رہائش کی شدید قلت پیدا ہوگئی تھی۔

ایران کو سب سے زیادہ نقصان؟

جانی اور عسکری نقصان کے اعتبار سے بیشتر تجزیہ کار ایران کو اس جنگ کا سب سے بڑا متاثرہ فریق قرار دیتے ہیں۔ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں متعدد فوجی مراکز، فضائی اڈے، میزائل تنصیبات اور بحری اڈے نشانہ بنائے گئے۔

بندر عباس کے اہم بحری اڈے پر حملوں کو جنگ کی سب سے بڑی فوجی کارروائیوں میں شمار کیا گیا۔ مختلف رپورٹس کے مطابق متعدد اعلیٰ عسکری شخصیات بھی حملوں میں مارے گئے۔

ایرانی بحریہ کو کتنا نقصان پہنچا؟

فوجی تجزیوں کے مطابق امریکی حملوں میں ایران کی کئی بحری تنصیبات تباہ ہوئیں۔ بعض دعووں میں کہا گیا کہ 51 فوجی مقامات کو نشانہ بنایا گیا جبکہ متعدد جنگی جہاز تباہ یا ناکارہ ہوگئے۔

امریکی قیادت نے دعویٰ کیا کہ ایرانی بحریہ کو فیصلہ کن نقصان پہنچایا گیا۔ بعض غیر مصدقہ دعووں میں 158 جہاز تباہ ہونے کا ذکر بھی سامنے آیا، تاہم ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہوسکی۔

امریکہ کو کتنی قیمت چکانی پڑی؟

اگرچہ میدان جنگ ایران تھا، لیکن امریکہ کو بھی بھاری مالی بوجھ اٹھانا پڑا۔ مختلف جنگی اخراجات کا جائزہ لینے والے اداروں کے مطابق امریکی جنگی خرچ 1.12 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا۔

اس کے علاوہ جنگی سازوسامان، بحری بیڑوں کی تعیناتی، فضائی کارروائیوں اور فوجی رسد پر بھی اربوں ڈالر خرچ ہوئے۔

آبنائے ہرمز کی بندش نے دنیا کو ہلا دیا

جنگ کا سب سے بڑا معاشی اثر آبنائے ہرمز پر پڑا۔ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔

جیسے ہی اس اہم آبی گزرگاہ میں کشیدگی بڑھی، عالمی منڈیوں میں خوف پھیل گیا۔ خام تیل کی قیمت جو جنگ سے پہلے تقریباً 70 سے 72 ڈالر فی بیرل تھی، بعض اوقات 119 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

عالمی معیشت کو کھربوں ڈالر کا نقصان

معاشی ماہرین کے مطابق اس تنازع نے عالمی معیشت کو شدید دھچکا پہنچایا۔ بعض تخمینوں میں سالانہ بنیادوں پر 2.2 ٹریلین ڈالر تک کے نقصان کا اندازہ ظاہر کیا گیا۔تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ اگر جنگ مزید طول پکڑتی تو عالمی نقصان 3.5 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتا تھا۔

بھارت پر جنگ کے اثرات

اس جنگ کے اثرات بھارت تک بھی پہنچے۔ تیل کی بڑھتی قیمتوں نے درآمدی اخراجات میں اضافہ کیا جبکہ اقتصادی ترقی کی رفتار پر بھی دباؤ بڑھا۔

رپورٹس کے مطابق ایک بحری واقعے میں تین بھارتی ملاح جان کی بازی ہار گئے۔ ان میں اتر پردیش کے شیوانند چورسیا، ہماچل پردیش کے آدتیہ شرما اور وشاکھاپٹنم کے چیف انجینئر پٹنالہ سریش شامل تھے۔

اس واقعے کے بعد نئی دہلی نے سفارتی سطح پر شدید تشویش ظاہر کی اور تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

عالمی بحری تجارت بھی متاثر

آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث درجنوں تجارتی جہازوں کو اپنے راستے تبدیل کرنا پڑے۔ تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہوئی جبکہ مال برداری کے اخراجات میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔

شپنگ صنعت کے ماہرین کے مطابق اس صورتحال نے عالمی سپلائی چین پر بھی دباؤ بڑھا دیا۔

امن معاہدے سے پہلے آخری خونریز دن

جنگ کے آخری دنوں میں بھی حملے جاری رہے۔ مختلف ذرائع کے مطابق 14 جون کو ہونے والی کارروائیوں میں بچوں اور خواتین سمیت متعدد افراد مارے گئے۔

ان واقعات نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کیا کہ جنگوں میں سب سے زیادہ قیمت ہمیشہ عام شہری ہی کیوں ادا کرتے ہیں۔

آخر میں سب سے زیادہ نقصان کس کا ہوا؟

اگر مجموعی تصویر دیکھی جائے تو انسانی جانوں، بنیادی ڈھانچے، فوجی تنصیبات اور نقل مکانی کے اعتبار سے ایران کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔ امریکہ نے مالی طور پر بھاری قیمت ادا کی جبکہ اسرائیل بھی میزائل حملوں اور سکیورٹی بحران سے متاثر ہوا۔

البتہ اس جنگ کا سب سے بڑا نقصان شاید ان لاکھوں عام شہریوں کا تھا جنہوں نے اپنے پیارے، اپنے گھر اور اپنا مستقبل کھو دیا۔ 107 دن بعد بندوقیں خاموش ضرور ہوگئیں، لیکن جنگ کے زخم آنے والے برسوں تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔

اس جنگ نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ جدید دور میں مسلح تنازعات کا سب سے بڑا بوجھ آخرکار عام شہریوں کو ہی کیوں اٹھانا پڑتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button