آبنائے ہرمز، اربوں ڈالر کے اثاثے اور پابندیوں میں نرمی، امریکہ-ایران معاہدے میں کیا طے پایا؟
آبنائے ہرمز کھولنے سے منجمد اثاثوں کی واپسی تک، امریکہ-ایران معاہدے کی 14 اہم شرائط منظرِ عام پر
جنیوا/واشنگٹن، 15 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک بڑی سفارتی کامیابی سامنے آئی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مجوزہ امن معاہدے کی تفصیلات منظر عام پر آ گئی ہیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے ’’مہر نیوز‘‘ نے معاہدے سے متعلق 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کی تفصیلات شائع کی ہیں، جن میں جنگ بندی، پابندیوں میں نرمی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی جیسے اہم نکات شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق معاہدے پر باضابطہ دستخط 19 جون کو جنیوا میں متوقع ہیں۔ ایران کی جانب سے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر غالیباف جبکہ امریکہ کی نمائندگی نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے۔
معاہدے کے تحت ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تمام عسکری کشیدگی کو فوری اور مستقل طور پر ختم کیا جائے گا۔ لبنان سمیت مختلف محاذوں پر جاری فوجی سرگرمیوں کے خاتمے کی بھی تجویز شامل ہے۔ امریکہ ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا عہد کرے گا جبکہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی بھی ختم کی جائے گی۔
دستاویز کے مطابق 30 دن کے اندر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحال کرتے ہوئے بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھول دیا جائے گا، جس سے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل دوبارہ معمول پر آنے کی امید ہے۔ اس کے علاوہ امریکی افواج ایران کے اطراف کے بعض علاقوں سے پیچھے ہٹیں گی اور ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی کی جائے گی۔
معاہدے میں ایران کے تقریباً 24 ارب ڈالر مالیت کے منجمد اثاثوں کی مرحلہ وار واپسی کی تجویز بھی شامل ہے۔ ساتھ ہی امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک ایران کی تعمیر نو کے لیے 300 ارب ڈالر تک کی مالی معاونت فراہم کرنے پر غور کریں گے۔
دونوں ممالک کے درمیان آئندہ 60 دنوں تک مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا، جس میں جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں اور دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔ ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کے تحت جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے کے اپنے مؤقف کا اعادہ کرے گا۔
مجوزہ شرائط کے مطابق مذاکراتی مدت کے دوران امریکہ ایران پر کوئی نئی پابندی عائد نہیں کرے گا اور نہ ہی کسی نئی فوجی کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔ معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ایک باقاعدہ طریقہ کار بھی تشکیل دیا جائے گا جبکہ حتمی معاہدے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے منظوری دلوانے کی کوشش کی جائے گی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران کے میزائل پروگرام اور ایران کی حمایت یافتہ علاقائی تنظیموں سے متعلق معاملات کو ان مذاکرات کا حصہ نہیں بنایا گیا ہے، جسے بعض مبصرین ایک اہم سفارتی رعایت قرار دے رہے ہیں۔
ادھر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹرتھ سوشل‘‘ پر جاری بیان میں کہا کہ یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں امن اور استحکام کی نئی راہ ہموار کرے گا۔ ان کے مطابق معاہدے کے نفاذ کے بعد آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھل جائے گی اور عالمی منڈیوں میں تیل کی سپلائی بحال ہونے سے توانائی کے شعبے کو فائدہ پہنچے گا۔
دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے اپنے بیان میں اس معاہدے کو تہران کی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام کی حمایت اور طویل مذاکراتی عمل کے بعد دونوں ممالک ایک قابل قبول سمجھوتے تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
تاہم یہ بات قابل ذکر ہے کہ ’’مہر نیوز‘‘ کی جانب سے شائع کردہ تمام 14 شرائط کی اب تک امریکہ یا ایران کی جانب سے باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔ سفارتی ذرائع کے مطابق دستخط سے قبل بعض نکات میں ردوبدل بھی ممکن ہے، اس لیے حتمی معاہدے کی تفصیلات سامنے آنے تک ان شرائط کو ابتدائی مسودہ تصور کیا جا رہا ہے۔



