بین الاقوامی خبریںسرورق

اسرائیل۔ایران جنگ: کیا نیتن یاہو سب سے بڑے نقصان اٹھانے والے ثابت ہوئے؟

ایران سے معاہدہ، اسرائیل میں تشویش؛ نیتن یاہو نے ٹرمپ سے کہا: "مجھے فوری بات کرنی ہے"

لندن 15 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اسرائیل اور ایران کے درمیان طویل کشیدگی اور فوجی تصادم کے بعد ہونے والے معاہدے پر مختلف سیاسی اور تجزیاتی حلقوں میں بحث جاری ہے۔ متعدد مبصرین اور ماہرین کا خیال ہے کہ اس پورے تنازع کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو سیاسی اور سفارتی سطح پر سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق نیتن یاہو نے ایران، غزہ اور لبنان سے متعلق اپنی پالیسیوں کو اپنی سیاسی ساکھ سے جوڑ دیا تھا۔ تاہم ان محاذوں پر وہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے جن کا دعویٰ اسرائیلی حکومت کی جانب سے کیا جا رہا تھا۔ ایران میں اقتدار کی تبدیلی واقع نہیں ہوئی جبکہ ایرانی میزائل صلاحیتوں کے مکمل خاتمے کے بھی آثار نظر نہیں آئے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران امریکہ اور اسرائیل کے درمیان حکمت عملی کے حوالے سے اختلافات بھی سامنے آئے۔ اگرچہ دونوں ممالک نے ایران کے خلاف مشترکہ اقدامات کیے، لیکن بعد کے مراحل میں بعض اہم معاملات پر دونوں حکومتوں کے مؤقف میں فرق محسوس کیا گیا۔ اسی وجہ سے جنگ کے اختتام اور بعد ازاں ہونے والے سفارتی اقدامات پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

خارجہ امور کے ماہر رابندر ناتھ سچدیو نے ایک انٹرویو میں کہا کہ نیتن یاہو نے اس تنازع پر اپنا سیاسی مستقبل داؤ پر لگا دیا تھا۔ ان کے مطابق غزہ، لبنان اور ایران سے متعلق کارروائیوں کے باوجود اسرائیلی قیادت وہ حتمی نتائج حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی جنہیں عوام کے سامنے بطور ہدف پیش کیا گیا تھا۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر لبنان کے محاذ پر بھی فوجی سرگرمیوں میں کمی آتی ہے تو اسرائیلی حکومت کو اندرونِ ملک مزید سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسے حالات میں اپوزیشن جماعتیں اور ناقدین نیتن یاہو کی پالیسیوں پر مزید سخت سوالات اٹھا سکتے ہیں۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق ایران کی قیادت اور اس کے علاقائی اتحادی اب بھی اسرائیل کے لیے ایک اہم چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ تہران اس صورتحال کو اپنی مزاحمت کی کامیابی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، جس سے خطے میں اثر و رسوخ کی نئی کشمکش جنم لے سکتی ہے۔

اس تنازع کے تناظر میں اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کی کارکردگی بھی زیر بحث آ گئی ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق جنگ کے دوران پیش کی گئی بعض معلومات اور اندازوں کے نتائج توقعات کے مطابق سامنے نہیں آئے، جس کی وجہ سے انٹیلی جنس نظام کی مؤثریت پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے مہینوں میں یہ واضح ہوگا کہ اس تنازع کے اثرات اسرائیل کی داخلی سیاست، خطے کی سفارتی صورتحال اور نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل پر کس حد تک مرتب ہوتے ہیں۔

ٹرمپ اور ایران کی ڈیل نے اسرائیل کو کیوں پریشان کر دیا؟ نیتن یاہو نے ٹرمپ سے فوراً ملنے کی خواہش کیوں ظاہر کی؟

امریکہ اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کے اعلان کے بعد اسرائیل میں بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فوری ملاقات کے لیے وقت طلب کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق نیتن یاہو خطے کی سلامتی اور ایران سے متعلق معاملات پر اپنا مؤقف براہِ راست امریکی قیادت کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اسرائیل کو اس بات پر تشویش ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات اور طے پانے والے معاہدے میں اسرائیل کو براہِ راست شریک نہیں کیا گیا۔ اسرائیلی قیادت کا خیال ہے کہ ایسے فیصلوں کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ پر مرتب ہو سکتے ہیں، اس لیے اسرائیل کے خدشات کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے۔

اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر نے سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے کسی بھی معاہدے کا پابند نہیں ہے اور اپنی قومی سلامتی کے حوالے سے آزادانہ فیصلے کرتا رہے گا۔ ان کے بیان کو اسرائیل کے سخت گیر حلقوں کے مؤقف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اگرچہ معاہدے میں لبنان کا نمایاں ذکر نہیں کیا گیا، تاہم اسرائیل لبنان میں جاری اپنی فوجی کارروائیوں اور سرحدی سلامتی کے معاملات پر بھی واشنگٹن سے بات چیت کا خواہاں ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ لبنان میں سرگرم حزب اللہ کو ایران کی حمایت حاصل ہے، جس کے باعث اس مسئلے کو ایران سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

ادھر ایران اور امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان حتمی معاہدہ جنیوا میں طے پائے گا۔ اس پیش رفت کے بعد سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جبکہ اسرائیل مسلسل اپنے تحفظات ظاہر کر رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں اسرائیلی قیادت پر معاہدے کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام بھی عائد کیا۔ امریکی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق ٹرمپ نے نیتن یاہو کے بعض اقدامات پر ناراضی کا اظہار کیا اور کہا کہ حساس سفارتی معاملات میں غیر ضروری تاخیر صورتحال کو پیچیدہ بنا سکتی ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ کامیابی سے مکمل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم اسرائیل کے تحفظات اور خطے میں جاری کشیدگی اس عمل کے لیے ایک بڑا چیلنج بنے رہیں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button