میرٹھ کی تاریخی "تھانے والی مسجد” پر تنازع، امام کو 7 دن کا نوٹس؛ متولی کا دعویٰ،مسجد 200 سال سے زائد قدیم
متولی نے مسجد کو 200 سال سے زائد قدیم قرار دیا۔
نئی دہلی 15 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اتر پردیش کے شہر میرٹھ میں واقع معروف "تھانے والی مسجد” کی زمین کی ملکیت کو لے کر تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ مسجد پولیس تھانے کی زمین پر قائم ہے، جبکہ مسجد انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ زمین وقف بورڈ کی ملکیت ہے اور اس سلسلے میں تمام ضروری دستاویزات پہلے ہی حکام کے حوالے کی جا چکی ہیں۔
یہ معاملہ خرخودہ پولیس تھانے کے احاطے میں واقع جامع مسجد سے متعلق ہے، جو مقامی سطح پر "تھانے والی مسجد” کے نام سے جانی جاتی ہے۔ کئی دہائیوں سے موجود یہ مسجد علاقے کی ایک اہم مذہبی اور تاریخی شناخت سمجھی جاتی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق محکمہ مال کی جانب سے حال ہی میں کرائے گئے سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ مسجد جس زمین پر قائم ہے وہ پولیس تھانے کی اراضی کا حصہ ہے۔ سروے رپورٹ کے بعد مسجد کے امام عبدالغفار سے زمین کی ملکیت ثابت کرنے کے لیے دستاویزات طلب کی گئیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کی شام تک ایسا کوئی ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا جسے انتظامیہ قابل قبول قرار دے سکے۔
سرکل افسر پرمود کمار سنگھ نے بتایا کہ محکمہ مال کی رپورٹ میں متنازع زمین کو پولیس تھانے کی ملکیت قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانونی عمل کے تحت امام عبدالغفار کو سات دن کا نوٹس جاری کیا گیا ہے تاکہ وہ متعلقہ دستاویزات پیش کریں اور مبینہ غیر مجاز تعمیر کے بارے میں وضاحت دیں۔
خرخودہ تھانے کے انچارج راجپال سنگھ کے مطابق نوٹس 13 جون کو جاری کیا گیا تھا اور جواب کے لیے سات دن کی مہلت دی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب تک کوئی باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا جبکہ آئندہ کارروائی جمع کرائے جانے والے ریکارڈ اور اس کی جانچ کے بعد طے کی جائے گی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ میرٹھ۔بلندشہر روڈ پر واقع خرخودہ پولیس تھانہ برطانوی دور سے قائم ہے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق کھسرا نمبر 1217 کے تحت تقریباً 6450 مربع میٹر زمین طویل عرصے سے محکمہ پولیس کے نام درج ہے۔ انتظامیہ کا الزام ہے کہ بعد میں اسی زمین کے ایک حصے پر مسجد تعمیر کی گئی۔
دوسری جانب مسجد انتظامیہ نے تجاوزات کے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ امام عبدالغفار کا کہنا ہے کہ متعلقہ زمین 1985 میں وقف بورڈ کے نام درج کی گئی تھی اور اس حوالے سے تمام ضروری دستاویزات موجود ہیں۔ ان کے مطابق یہ کاغذات پہلے ہی پولیس اور متعلقہ حکام کو فراہم کیے جا چکے ہیں اور مسجد وقف اراضی پر قائم ہے۔
اس دوران مسجد کے متولی ایوب سیفی نے بھی انتظامیہ کے نوٹس پر سخت اعتراض کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جامع مسجد نئی تعمیر نہیں بلکہ 200 سال سے زیادہ قدیم تاریخی مسجد ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ مسجد تعمیر کی گئی تھی اس وقت وہاں کوئی پولیس اسٹیشن موجود نہیں تھا۔ ان کے بقول مسجد کی تاریخی حیثیت اور ملکیت سے متعلق تمام حقائق متعلقہ دستاویزات میں درج ہیں۔
ایوب سیفی نے مزید کہا کہ مسجد انتظامیہ مقررہ مدت کے اندر معزز عدالت سے رجوع کرے گی تاکہ مسجد کے خلاف کسی بھی یکطرفہ کارروائی کو روکا جا سکے اور اس کے وجود اور قانونی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ مسجد انتظامیہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے موقف کا بھرپور دفاع کرے گی۔
ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (دیہی) ابھیجیت کمار نے کہا کہ مسجد کافی پرانی ہے اور زمین کی حد بندی کے حالیہ عمل کے دوران اس معاملے کی نشاندہی ہوئی۔ ان کے مطابق تمام دستاویزات اور سرکاری ریکارڈ کی جانچ کے بعد ہی آئندہ کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تنازع کا حتمی نتیجہ محکمہ مال کے ریکارڈ، وقف بورڈ کی دستاویزات، تاریخی شواہد اور زمین کی ملکیت سے متعلق سرکاری ریکارڈ کے تفصیلی جائزے کے بعد سامنے آئے گا۔ فی الحال نہ تو مسجد کو ہٹانے اور نہ ہی کسی انہدامی کارروائی کا اعلان کیا گیا ہے۔ دونوں فریق انتظامی اور قانونی عمل کے اگلے مرحلے کے منتظر ہیں جبکہ معاملے کا فیصلہ دستاویزی ثبوتوں اور عدالتی و قانونی کارروائی کی بنیاد پر ہونے کا امکان ہے۔



