خان سر کے دو سیکیورٹی گارڈز کو فوری ضمانت نہ مل سکی، پٹنہ عدالت نے پولیس سے رپورٹ طلب کر لی
پٹنہ۔18 جون (اردو دنیا نیوز/ایجنسیاں): پٹنہ سول عدالت نے معروف استاد فیصل خان المعروف خان سر کے دو سیکیورٹی گارڈز کو فوری ضمانت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ معاملہ مسلم پور ہاٹ میں خان گلوبل اسٹڈیز سے متعلق ہنگامہ آرائی، حملے اور فائرنگ کے واقعے سے جڑا ہوا ہے۔
سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کو ہدایت دی کہ وہ تحقیقات سے متعلق تازہ کیس ڈائری اور دیگر ضروری دستاویزات پیش کرے۔ عدالت نے معاملے کی اگلی سماعت 20 جون مقرر کی ہے۔
اسی مقدمے میں فیصل خان سے متعلق سماعت بھی 20 جون کو متوقع ہے۔ انہیں فی الحال اسی تاریخ تک گرفتاری سے عبوری تحفظ حاصل ہے۔
دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ روشن آنند کے قریبی ساتھی بھی اس مقدمے میں ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
ادھر ضمانت پر رہائی پانے والے روشن آنند نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے بھائی پرنس یادو کے قتل کی سازش میں فیصل خان اور ایک کولڈ اسٹوریج مالک ملوث ہیں۔ پرنس یادو کی موت نیپال کے شہر بیرات نگر کے ایک ہوٹل میں مشتبہ حالات میں ہوئی تھی، جس کی تحقیقات نیپال پولیس کر رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق پرنس یادو کی آخری رسومات ان کے آبائی ضلع سہرسا میں ادا کی گئیں جہاں بڑی تعداد میں مقامی افراد اور حامیوں نے شرکت کی۔ اہل خانہ مسلسل انصاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
نیپال پولیس نے تحقیقات کے سلسلے میں پرنس یادو کے پانچ ساتھیوں کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ شروع کر دی ہے، جبکہ اطلاعات ہیں کہ پٹنہ پولیس بھی اس معاملے میں نیپالی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔
معاملے نے سیاسی رنگ بھی اختیار کر لیا ہے۔ قائد حزب اختلاف تیجسوی یادو نے پرنس یادو کی موت کی مرکزی تحقیقاتی ادارے سے جانچ کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔



