سعودی عرب کے ورک ویزا قوانین میں بڑی تبدیلی، ہندوستانی ملازمین کے لیے نئی مشکل
سعودی عرب کے نئے ورک ویزا قوانین سے ہندوستانی ملازمین متاثر، نئی کمپنیوں میں ملازمت حاصل کرنا ہوگا مشکل
الریاض 18/جون :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) سعودی عرب کی جانب سے ورک ویزا کے اجراء کے نظام میں کی گئی نئی تبدیلیوں کے بعد ہندوستانی ملازمین اور کمپنیوں پر بھی اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سعودی عرب میں غیر ملکی کارکنوں کی بڑی تعداد ہندوستانی شہریوں پر مشتمل ہے، اسی لیے نئے ضوابط کو بھارتی افرادی قوت کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
نئے قوانین کے تحت دو سال سے کم عرصے سے قائم کمپنیوں کے لیے فوری ورک ویزوں کی تعداد محدود کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں نئی کمپنیوں اور اسٹارٹ اپس میں غیر ملکی پروفیشنلز کی بھرتی کا عمل پہلے کے مقابلے میں سست ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اب بیرون ملک ملازمت کے خواہشمند افراد نئی کمپنیوں کے بجائے ایسی کمپنیوں کو ترجیح دے سکتے ہیں جو دو سال یا اس سے زیادہ عرصے سے سعودی عرب میں سرگرم ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پرانی اور مستحکم کمپنیوں کے پاس ویزا کوٹہ زیادہ ہوتا ہے اور وہ 50 تک ورک ویزوں کے لیے درخواست دینے کی اہل ہیں۔
دوسری جانب نئی کمپنیوں کے لیے محدود ویزا کوٹہ ہنرمند کارکنوں اور پیشہ ور افراد کی بھرتی میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ اس تبدیلی سے سعودی لیبر مارکیٹ میں مقابلہ مزید سخت ہونے اور ملازمت کے مواقع کے حصول کے طریقہ کار میں تبدیلی آنے کا امکان ہے۔
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ نئے ضوابط کا مقصد لیبر مارکیٹ کو منظم بنانا، سعودیائزیشن کو فروغ دینا اور غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے عمل میں شفافیت پیدا کرنا ہے۔



