بین الاقوامی خبریںسرورق

ایران-امریکہ معاہدہ:کیا ایران اس جنگ کا اصل فاتح ہے؟ معاہدے سے اربوں ڈالر کے اقتصادی فوائد حاصل کرنے کا دعویٰ

معاہدے کے بعد اربوں ڈالر کے فوائد کی تفصیلات

تہران/واشنگٹن، 18 جون  (اردو دنیا نیوز/ایجنسیاں):ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ معاہدے نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور طویل تنازع کے خاتمے کو ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ اس معاہدے سے ایران کو ممکنہ طور پر بڑے اقتصادی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔

معاہدے کے مطابق ایران کو آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق نئے ضوابط مرتب کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ معاہدے کے تحت ابتدائی 60 دن تک کوئی ٹول وصول نہیں کیا جائے گا، تاہم اس مدت کے بعد ایران اور عمان مشترکہ انتظامی طریقہ کار کے تحت نئی پالیسی تشکیل دے سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی تجارت کا ایک اہم راستہ ہے اور اس حوالے سے ایران کے کردار پر بین الاقوامی توجہ مرکوز ہے۔

معاہدے کی ایک اہم شق ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کے خاتمے سے متعلق ہے۔ اگر اس پر مکمل عمل درآمد ہوتا ہے تو ایرانی بینکوں اور کمپنیوں کو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی تجارت تک زیادہ رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پابندیوں کے خاتمے سے ایران کی معیشت کو نمایاں سہارا مل سکتا ہے۔

دستاویز کے مطابق بیرون ملک موجود ایران کے منجمد اثاثوں تک بھی رسائی فراہم کی جا سکتی ہے۔ مختلف اندازوں کے مطابق ایران کے اربوں ڈالر کے اثاثے بیرونی بینکوں میں منجمد ہیں۔ معاہدے کے تحت ان فنڈز کو مرحلہ وار ایرانی مرکزی بینک کے استعمال کے لیے دستیاب بنانے کی بات کی گئی ہے۔

توانائی کے شعبے میں بھی ایران کو نمایاں فائدہ پہنچنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ پابندیوں میں نرمی یا خاتمے کی صورت میں ایران اپنی تیل برآمدات میں اضافہ کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق قانونی اور کھلی منڈی میں تیل فروخت کرنے کی اجازت ایران کی سرکاری آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ کر سکتی ہے، کیونکہ ملکی بجٹ کا بڑا حصہ تیل کی آمدنی پر منحصر ہے۔

معاہدے میں ایران کی اقتصادی بحالی اور ترقی کے لیے کم از کم 300 بلین ڈالر کی ممکنہ سرمایہ کاری کے منصوبے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس سرمایہ کاری میں امریکہ کے علاقائی شراکت داروں اور نجی شعبے کی شرکت متوقع ہے۔ تاہم امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ واشنگٹن براہ راست ایران کو فنڈز فراہم نہیں کرے گا بلکہ ضروری قانونی منظوریوں اور سہولتوں کی فراہمی تک محدود رہے گا۔

دوسری جانب ایران نے جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے کے اپنے مؤقف کا دوبارہ اعادہ کیا ہے۔ معاہدے کے مطابق انتہائی افزودہ یورینیم کو کم افزودہ یورینیم میں تبدیل کرنے کا عمل بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کی نگرانی میں انجام دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ آئندہ 60 دنوں کے دوران مزید جوہری مذاکرات بھی متوقع ہیں۔

اگر معاہدے کی تمام شقیں مکمل طور پر نافذ ہو جاتی ہیں تو اقتصادی اعتبار سے ایران کو تیل، تجارت، سرمایہ کاری، منجمد اثاثوں اور مالیاتی نظام تک رسائی جیسے کئی بڑے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے بعض تجزیہ کار اسے ایران کے لیے ممکنہ طور پر "اقتصادی جیک پاٹ” قرار دے رہے ہیں، تاہم حتمی نتیجہ معاہدے پر عمل درآمد اور آئندہ جوہری مذاکرات پر منحصر ہوگا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button