سرورققومی خبریں

بوبازار بم دھماکہ کیس: سزا یافتہ محمد راشد خان کی رہائی کے خلاف بنگال حکومت سپریم کورٹ سے رجوع

محمد راشد خان 33 برس سے زائد عرصہ جیل میں گزار چکے ہیں

نئی دہلی، 18 جون 2026 (اردو دنیانیوز/ایجنسیز)مغربی بنگال حکومت نے 1993 کے بوبازار بم دھماکہ کیس میں عمر قید کی سزا پانے والے محمد راشد خان کی رہائی کے خلاف سپریم کورٹ میں خصوصی اجازت عرضی (ایس ایل پی) دائر کر دی ہے۔ ریاستی حکومت نے دہلی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے جس میں محمد راشد خان کو سزا میں رعایت دیتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

جمعرات کو معاملہ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں مغربی بنگال حکومت کے وکیل نے فوری سماعت کی درخواست کی۔ چیف جسٹس نے یقین دہانی کرائی کہ ریاستی حکومت کی عرضی پر جلد سماعت کے لیے غور کیا جائے گا۔

دہلی ہائی کورٹ نے 5 جون کو اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ محمد راشد خان 33 برس سے زائد عرصہ جیل میں گزار چکے ہیں، اس لیے اصلاحی نظریۂ سزا کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں قبل از وقت رہائی کا حق حاصل ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا تھا کہ اتنا طویل عرصہ جیل میں گزارنے کے بعد مزید قید سے کوئی خاص مقصد حاصل نہیں ہوگا۔

عدالت کے مطابق محمد راشد خان کا جیل میں طرز عمل انتہائی اچھا رہا ہے۔ وہ متعدد مواقع پر پیرول پر رہا ہونے کے بعد مقررہ وقت پر واپس جیل پہنچے اور ان کے خلاف جیل کے دوران کسی سنگین خلاف ورزی کا ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ عمر اور صحت کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے دوبارہ جرم کے امکانات بہت کم ہیں۔

دوسری جانب مغربی بنگال حکومت نے اپنی عرضی میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ محمد راشد خان بوبازار بم دھماکہ کیس کے اہم سزا یافتگان میں شامل تھے اور اس واقعے نے معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کیے تھے۔ حکومت نے یہ بھی کہا کہ پولیس حکام نے ان کی قبل از وقت رہائی پر اعتراضات اٹھائے تھے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق محمد راشد خان مارچ 1993 سے جیل میں ہیں۔ انہیں بوبازار بم دھماکہ کیس میں تعزیرات ہند، دھماکہ خیز مواد سے متعلق قانون اور ٹاڈا قانون کی مختلف دفعات کے تحت سزا سنائی گئی تھی۔

دہلی ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی نشاندہی کی تھی کہ اسی مقدمے کے ایک دوسرے سزا یافتہ کو پہلے ہی سزا میں رعایت دی جا چکی ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ صرف جرم کی سنگینی کو بنیاد بنا کر رعایت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، اگر قیدی مقررہ شرائط پوری کرتا ہو اور اس کے رویے میں مثبت تبدیلی واضح ہو۔

اب سپریم کورٹ میں دائر کی گئی عرضی پر ہونے والی سماعت اس معاملے کی آئندہ قانونی سمت کا تعین کرے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button