
گڑھے میں گر کر جاں بحق شخص کے اہل خانہ کو 30 لاکھ روپے معاوضہ:دہلی ہائی کورٹ
یہ حادثات اتفاق نہیں بلکہ انتظامی غفلت کا نتیجہ ہیں
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) دہلی ہائی کورٹ نے دہلی جل بورڈ (ڈی جے بی) کی جانب سے کھودے گئے گڑھے میں گر کر جاں بحق ہونے والے 37 سالہ شخص کے اہل خانہ کو 30 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو یہ بھی مشورہ دیا کہ ایسے حادثات کے متاثرین کو فوری مالی امداد فراہم کرنے کے لیے ایک مؤثر پالیسی تیار کی جائے۔
جسٹس پروشندر کمار کور نے اپنے فیصلے میں کہا کہ خاندان کے واحد کفیل کی موت اہل خانہ کو شدید معاشی مشکلات سے دوچار کر دیتی ہے۔ ایسے متاثرہ خاندانوں کو بنیادی مالی امداد کے حصول کے لیے طویل اور مہنگی قانونی کارروائی کا سامنا نہیں کرنا چاہیے، خصوصاً جب حادثہ سرکاری اداروں کی غفلت کا نتیجہ ہو۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق یہ واقعہ 17 اور 18 اپریل 2019 کی درمیانی شب دہلی کے دھیچون کلاں علاقے میں پیش آیا تھا۔ دہلی جل بورڈ کی جانب سے پائپ لائن کی مرمت کے لیے سڑک پر گڑھا کھودا گیا تھا، جس میں موٹر سائیکل سوار گر گیا۔ وہ پوری رات گڑھے میں پڑا رہا اور اگلی صبح زخمی حالت میں ملا۔ بعد ازاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔
متوفی اپنے خاندان کا واحد کمانے والا فرد تھا۔ اس کے پسماندگان میں بیوی، والدہ اور تین بچے شامل ہیں، جو حادثے کے بعد شدید مالی مشکلات کا شکار ہو گئے۔
سماعت کے دوران دہلی جل بورڈ نے مؤقف اختیار کیا کہ کھدائی کا کام ایک نجی ٹھیکیدار نے انجام دیا تھا اور گڑھے کے اطراف حفاظتی رکاوٹیں بھی لگائی گئی تھیں۔ بورڈ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ممکن ہے متوفی سامنے سے آنے والی گاڑی کی تیز روشنی کے باعث موٹر سائیکل پر قابو نہ رکھ سکا ہو۔
تاہم عدالت نے یہ دلائل مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عوامی سڑک پر کھدائی جیسے خطرناک کام کے دوران مناسب نگرانی، روشنی، حفاظتی انتظامات اور ہنگامی ردعمل کو یقینی بنانا دہلی جل بورڈ کی ذمہ داری تھی۔
ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اس نوعیت کے حادثات غیر متوقع نہیں ہوتے بلکہ انتظامی لاپرواہی اور حفاظتی اصولوں پر عمل درآمد میں ناکامی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔
عدالت نے سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سال 2023 کے دوران سڑکوں کی تعمیر اور مرمت سے متعلق حادثات میں 8,246 افراد زخمی جبکہ 3,904 افراد ہلاک ہوئے۔ عدالت نے کہا کہ یہ اعداد و شمار عوامی منصوبوں میں حفاظتی اقدامات کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں۔
عدالت نے کہا کہ ایسے معاملات میں فوری معاوضے کی ادائیگی کے لیے ایک منظم اور مؤثر پالیسی فریم ورک ناگزیر ہے، تاکہ متاثرہ خاندانوں کو برسوں تک قانونی جنگ لڑنے کے بجائے بروقت امداد مل سکے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ متعلقہ حکام اس حوالے سے مناسب پالیسی مرتب کرنے پر غور کریں تاکہ مستحق متاثرین کو بروقت، انسانی بنیادوں پر اور مؤثر انداز میں معاوضہ فراہم کیا جا سکے۔
عدالت نے قرار دیا کہ متاثرہ خاندان 30 لاکھ روپے یکمشت معاوضے کا حق دار ہے۔ تاہم چونکہ خاندان کو پہلے ہی 50 ہزار روپے ادا کیے جا چکے ہیں، اس لیے دہلی جل بورڈ کو باقی 29.50 لاکھ روپے حادثے کی تاریخ سے ادائیگی تک 6 فیصد سالانہ سادہ سود کے ساتھ تین ماہ کے اندر ادا کرنے ہوں گے۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ دہلی جل بورڈ اپنی ذمہ داری سے بچنے کے لیے ٹھیکیدار پر انحصار نہیں کر سکتا، البتہ وہ معاہدے کی شرائط کے مطابق بعد میں ٹھیکیدار سے رقم کی وصولی کے لیے قانونی کارروائی کرنے کا حق رکھتا ہے۔



