کولکاتہ کی سہروردی ایونیو اب گوپال مکھرجی روڈ، نام تبدیلی پر سیاسی جنگ چھڑ گئی
سہروردی ایونیو کا نام تبدیل، کولکاتہ میں تاریخ اور سیاست پر نئی بحث چھڑ گئی
کولکاتہ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) مغربی بنگال کی نئی بی جے پی حکومت کی جانب سے کولکاتہ کی معروف سڑک ’’سہروردی ایونیو‘‘ کا نام تبدیل کرکے ’’گوپال مکھرجی روڈ‘‘ رکھے جانے کے بعد ریاست میں سیاسی اور تاریخی بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت نے تاریخ کی غلط تشریح کرتے ہوئے ایک ایسی شخصیت کو نشانہ بنایا ہے جس کا متنازع سیاسی واقعات سے براہِ راست تعلق نہیں تھا۔
کولکاتہ میونسپل کارپوریشن نے پارک سرکس سیون پوائنٹ کراسنگ کے قریب واقع سہروردی ایونیو کا نام گوپال مکھرجی کے نام پر رکھنے کی منظوری دی۔ گوپال مکھرجی، جنہیں ’’گوپال پاتھا‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، 1946 کے ’’گریٹ کلکتہ کلنگز‘‘ کے دوران ہندو برادری کے محافظ کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔
مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری نے اس فیصلے کو ’’تاریخی غلطی کی اصلاح‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کئی دہائیوں تک شہر کی ایک اہم سڑک ایسے شخص کے نام سے منسوب رہی جس پر سیاسی مفادات کے لیے ریاستی طاقت کے غلط استعمال اور بے گناہ شہریوں کے قتل عام کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔
ادھیکاری کا اشارہ حسین شہید سہروردی کی جانب سمجھا گیا، 1946 میں حسین سہروردی بنگال میں پہلے مسلم لیگی وزیر اعظم بنے۔ جو متحدہ بنگال کے آخری وزیر اعظم اور بعد میں پاکستان کے پانچویں وزیر اعظم رہے تھے۔ ان پر 16 اگست 1946 کے ’’ڈائریکٹ ایکشن ڈے‘‘ کے بعد بھڑکنے والے فرقہ وارانہ فسادات کو روکنے میں ناکامی کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔ ان فسادات میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے اور یہ واقعہ تاریخ میں ’’گریٹ کلکتہ کلنگز‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
تاہم اس فیصلے کے ناقدین کا کہنا ہے کہ سہروردی ایونیو دراصل حسین شہید سہروردی کے نام پر نہیں بلکہ ان کے چچا حسن سہروردی کے نام سے منسوب تھی، جو ایک ممتاز سرجن، ماہر تعلیم اور کلکتہ یونیورسٹی کے پہلے مسلم وائس چانسلر تھے۔
ترنمول کانگریس کے رہنما کنال گھوش نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے دو افراد کے ناموں میں مماثلت کی بنیاد پر کسی ایک شخصیت کو دوسرے کے اعمال کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تاریخی ریکارڈ کا دوبارہ جائزہ لیا جائے۔
ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے بھی فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ سہروردی ایونیو کا نام حسن سہروردی کے اعزاز میں رکھا گیا تھا، جو کلکتہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہ چکے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی سیاسی فائدے کے لیے تاریخ کو مسخ کر رہی ہے۔
کانگریس کے رہنما پون کھیڑا نے بھی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی قیادت حسن سہروردی اور حسین شہید سہروردی کے درمیان فرق تک نہیں جانتی۔ کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے بھی اسی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے تاریخی حقائق کا حوالہ دیا۔
ادھر مارکسی کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی ایم) نے تاریخی دستاویزات پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 8 مارچ 1933 کو اس وقت کی کلکتہ میونسپل کارپوریشن نے باقاعدہ قرارداد منظور کرکے اس سڑک کا نام حسن سہروردی کے نام پر رکھا تھا، جسے بعد ازاں سرکاری گزٹ میں بھی شائع کیا گیا تھا۔
یہ نام تبدیلی ایسے وقت میں کی گئی جب وزیر اعظم نریندر مودی نے ہوگلی ضلع کے تارکیشور میں جلسہ عام سے خطاب کیا اور ریاستی حکومت نے 20 جون کو ’’پشچم بنگ دیوس‘‘ کے طور پر منایا۔ یہ دن 1947 میں بنگال کی تقسیم کے حق میں ہونے والی تاریخی ووٹنگ کی یاد میں منایا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں مغربی بنگال بھارت کا حصہ بنا تھا۔
بی جے پی اس دن کو شیاما پرساد مکھرجی کی خدمات کے اعتراف کے طور پر پیش کر رہی ہے، جنہوں نے تقسیم ہند کے دوران بھارت کے اندر ایک علیحدہ مغربی بنگال کے قیام کے لیے مہم چلائی تھی۔



