مسلمانوں کو صرف ووٹ بینک سمجھا جا رہا ہے، مسائل پر مجرمانہ خاموشی ناقابل قبول: مسلم پرسنل لا بورڈ
بورڈ نے کانگریس سمیت تمام سیاسی جماعتوں کی خاموشی پر بھی سوال اٹھائے
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (AIMPLB) نے مسلمانوں کی سماجی و سیاسی پسماندگی، مساجد و مدارس کے انہدام اور آئینی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے خلاف ملک گیر مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بورڈ نے الزام عائد کیا کہ ملک کی سیکولر سیاسی جماعتیں مسلمانوں کے مسائل پر "مجرمانہ خاموشی” اختیار کیے ہوئے ہیں اور مسلم ووٹ کو صرف انتخابی فائدے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
اتوار کو منعقدہ بورڈ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملک میں مسلمانوں کی موجودہ صورتحال، فرقہ وارانہ کشیدگی، بنیادی حقوق کی پامالی اور سماجی چیلنجز پر ایک جامع دستاویز تیار کر کے شائع کی جائے گی۔ اس دستاویز کا مقصد ملک کے انصاف پسند، جمہوریت پسند اور باضمیر طبقوں کی توجہ ان مسائل کی جانب مبذول کرانا ہوگا۔
بورڈ کے ترجمان سید قاسم رسول الیاس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں سے متعلق مسائل کو جس سنجیدگی کے ساتھ اٹھایا جانا چاہیے، سیاسی جماعتیں ایسا نہیں کر رہیں۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ صرف کسی ایک جماعت سے نہیں بلکہ کانگریس سمیت تمام سیاسی پارٹیوں کے رویے سے غیر مطمئن ہے۔
راہل گاندھی کے حالیہ بیان کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر الیاس نے کہا کہ مسلمانوں کے مسائل کو محض اقلیتی مسائل کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا، کیونکہ ملک کی دوسری بڑی آبادی کے حقوق متاثر ہونے سے جمہوری ڈھانچہ، سماجی ہم آہنگی اور ترقی کا عمل بھی متاثر ہوتا ہے۔
اجلاس میں وندے ماترم کو لازمی قرار دینے کی ممکنہ کوششوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ بورڈ نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر مرکزی حکومت یا کوئی ریاستی حکومت وندے ماترم کی تلاوت کو طلبہ یا شہریوں کے لیے لازمی بناتی ہے تو اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔
ایگزیکٹو کمیٹی نے مختلف ریاستوں میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) سے متعلق قانون سازی پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اتراکھنڈ کی طرح دیگر ریاستوں میں بھی ایسے قوانین کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔
بورڈ نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ ملک بھر میں انصاف پسند اور جمہوریت پسند طبقات کے تعاون سے مسلمانوں کی سماجی و سیاسی پسماندگی، نفرت انگیز مہمات، جان و مال کے تحفظ اور مساجد و مدارس کے تحفظ کے لیے ایک ملک گیر تحریک چلائے گا۔ اس مقصد کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔



