تلنگانہ کی خبریںجرائم و حادثات

ٹمریز جونیئر کالج میں غیر شادی شدہ طالبہ نے نومولود کو جنم دے کر قتل کردیا؟پرنسپل اور وارڈن معطل

ٹمریز جونیئر کالج میں طالبہ کی خفیہ زچگی اور نومولود کی ہلاکت، کئی سوالات جنم لینے لگے

حیدرآباد، 25 جون: تلنگانہ اقلیتی اقامتی جونیئر کالج (TMREIS) کے گولکنڈہ میں واقع ٹمریز جونیئر کالج میں پیش آنے والے ایک افسوسناک اور چونکا دینے والے واقعہ نے اقامتی تعلیمی اداروں کے حفاظتی اور نگرانی کے نظام پر کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق انٹرمیڈیٹ سال دوم کی ایک غیر شادی شدہ طالبہ نے کالج کے بیت الخلاء میں ایک بچے کو جنم دینے کے بعد مبینہ طور پر نومولود کو عمارت کی کھڑکی سے باہر پھینک دیا، جس کے نتیجے میں اس کی موت ہوگئی۔

ذرائع کے مطابق یہ واقعہ دو روز قبل پیش آیا، تاہم کالج انتظامیہ، اساتذہ یا دیگر ذمہ داران کو اس کی اطلاع اس وقت ہوئی جب اگلے روز کالج کے احاطے سے نومولود کی لاش برآمد ہوئی۔ اتنے حساس واقعہ کا ایک دن تک کسی کے علم میں نہ آنا اقامتی کالج میں نگرانی کے نظام پر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔

واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد تلنگانہ اقلیتی اقامتی تعلیمی اداروں کی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے کالج کی پرنسپل اور اس وقت ڈیوٹی پر موجود وارڈن کو معطل کر دیا۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ معاملے کو مزید نہ بڑھانے کی حکمت عملی کے تحت طالبہ کو اس کے والدین کے حوالے کر دیا گیا، جبکہ اس واقعہ میں دیگر ذمہ داران کے کردار پر تاحال کوئی واضح کارروائی سامنے نہیں آئی۔

گولکنڈہ پولیس اسٹیشن کے مطابق کالج کی پرنسپل کی شکایت پر مقدمہ نمبر 241/2026 درج کرتے ہوئے طالبہ کے خلاف نومولود کے قتل کا کیس درج کیا گیا ہے اور تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ تاہم خبر لکھے جانے تک طالبہ کو گرفتار نہیں کیا گیا تھا۔

اس واقعہ نے کئی ایسے سوالات کو جنم دیا ہے جن کے جوابات کا عوام انتظار کر رہے ہیں۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ متعلقہ طالبہ گزشتہ تعلیمی سال سے اسی اقامتی جونیئر کالج میں زیر تعلیم تھی اور رواں سال بھی سال دوم میں تعلیم حاصل کر رہی تھی، اس کے باوجود حمل کے دوران اس کی جسمانی تبدیلیوں پر نہ اساتذہ کی نظر گئی، نا ہی وارڈن نے کوئی شبہ ظاہر کیا اور نہ ہی کالج کے طبی عملے نے کوئی توجہ دی۔

ٹمریز کے اقامتی کالجوں میں محکمہ صحت کی جانب سے نرسوں کی تعیناتی، طلبہ کے ماہانہ طبی معائنے اور صحت سے متعلق مکمل ریکارڈ رکھنے کے دعوے کیے جاتے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کئی ماہ تک جاری رہنے والے حمل کا کسی طبی اہلکار یا کالج انتظامیہ کو علم کیوں نہ ہو سکا؟

مزید حیرت انگیز بات یہ بھی ہے کہ طالبہ نے کالج کے بیت الخلاء میں بچے کو جنم دیا، لیکن زچگی جیسے حساس مرحلے کے دوران بھی کسی ملازم، وارڈن یا ذمہ دار کو اس کی اطلاع نہ مل سکی۔ اگر واقعہ پیش آنے کے فوراً بعد کارروائی کی جاتی تو شاید نومولود کی جان بچائی جا سکتی تھی۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ واقعہ کالج کے احاطے میں پیش آیا ہے، جہاں طلبہ و طالبات کی مکمل ذمہ داری ادارے پر ہوتی ہے، تو صرف طالبہ کے خلاف مقدمہ درج کرنا کافی نہیں۔ اگر تحقیقات میں انتظامی غفلت، طبی نگرانی میں کوتاہی یا حفاظتی نظام کی ناکامی ثابت ہوتی ہے تو متعلقہ ذمہ داران کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔

اس افسوسناک واقعہ نے نہ صرف اقامتی تعلیمی اداروں میں حفاظتی انتظامات بلکہ طلبہ کی ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی نگہداشت کے موجودہ نظام پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اب تمام نظریں پولیس تحقیقات پر مرکوز ہیں کہ آیا اس معاملے میں صرف طالبہ کو ذمہ دار قرار دیا جائے گا یا پھر انتظامیہ کی ممکنہ غفلت کا بھی تعین کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button