تلنگانہ کی خبریں

UMEED پورٹل پر رائے درگ اراضی ’’مصدقہ وقف‘‘ قرار، جامعہ نظامیہ کی زمین کی نیلامی پر نئے سوالات

UMEED پورٹل پر جامعہ نظامیہ کی رائے درگ اراضی مصدقہ وقف، نیلامی پر قانونی تنازعہ گہرا گیا

حیدرآباد، 25 جون: تلنگانہ میں رائے درگ کی انتہائی قیمتی اراضی کے معاملے نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ جنوبی ہند کی معروف دینی درسگاہ جامعہ نظامیہ کے تحت موجود وقف اراضی کو مرکزی حکومت کے UMEED پورٹل پر "مصدقہ وقف جائیداد” (Approved Waqf Property) کے طور پر منظور کیے جانے کے باوجود حکومت تلنگانہ نے اس زمین کی نیلامی کر دی، جس پر قانونی اور انتظامی سطح پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق حکومت ہند نے وقف ترمیمی قوانین 2025 کے نفاذ کے بعد یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ UMEED پورٹل پر درج اور منظور شدہ جائیدادوں کو وقف جائیداد کی حیثیت حاصل ہوگی۔ اسی یقین دہانی کے بعد مختلف مسلم تنظیموں اور اداروں نے اپنی وقف املاک کا اندراج کرانا شروع کیا، جن میں جامعہ نظامیہ کی رائے درگ میں واقع قیمتی اراضی بھی شامل ہے۔

اطلاعات کے مطابق تلنگانہ وقف بورڈ نے دستیاب تمام ریکارڈ، منتخب اور "کتاب الاوقاف” میں موجود اندراجات کی جانچ کے بعد سروے نمبر 83/1 کی اس اراضی کی تفصیلات UMEED پورٹل پر اپ لوڈ کیں۔ میکر، چیکر اور اپروور کی توثیق کے بعد جائیداد کو Approved کا درجہ دیا گیا اور اسے شناختی نمبر TS0518E14RR22DA001 بھی جاری کیا گیا۔

اس کے باوجود الزام ہے کہ تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن (TGIIC) نے مذکورہ اراضی کو تقریباً 237 کروڑ روپے فی ایکڑ کی قیمت پر نیلام کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ نیلامی سے قبل جامعہ نظامیہ کے ذمہ داران نے ضلع کلکٹر، ریونیو ڈویژنل آفیسر، تحصیلدار اور دیگر متعلقہ حکام کو تحریری نمائندگی کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ یہ اراضی وقف ہے اور اس سے متعلق مقدمہ تلنگانہ ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے، تاہم ان اعتراضات کے باوجود نیلامی کا عمل مکمل کیا گیا۔

وقف بورڈ سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ مذکورہ اراضی کو UMEED پورٹل پر مصدقہ وقف جائیداد کے طور پر تسلیم کیا جا چکا ہے، اس لیے اس کی فروخت وقف قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس معاملے میں بورڈ کے پاس موجود تمام اصل ریکارڈ اور دستاویزات کو فوری طور پر محفوظ کیا جانا ضروری ہے تاکہ آئندہ قانونی کارروائی کے دوران کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئے۔

ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ وقف بورڈ پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ قانونی پیچیدگیوں کا حوالہ دے کر جامعہ نظامیہ کو ہی اس اراضی سے محرومی کا ذمہ دار قرار دے، تاکہ حکومت مستقبل میں اسی سروے نمبر کی دیگر اراضی کی فروخت بھی آسانی سے کر سکے۔ تاہم اس سلسلے میں نہ حکومت تلنگانہ اور نہ ہی محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے آیا ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ متعلقہ اراضی UMEED پورٹل پر باقاعدہ مصدقہ وقف جائیداد کے طور پر درج ہے، تو وقف ترمیمی قوانین 2025 کے تحت متعلقہ محکموں اور عہدیداروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس معاملے میں وقف بورڈ کا آئندہ موقف انتہائی اہمیت کا حامل ہوگا۔

دوسری جانب سیاسی حلقوں میں بھی اس معاملے پر خاموشی دیکھی جا رہی ہے، جبکہ وقف املاک کے تحفظ سے وابستہ افراد کا مطالبہ ہے کہ جامعہ نظامیہ کی اس تاریخی وقف جائیداد کے تمام ریکارڈ کو محفوظ رکھتے ہوئے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور اگر کسی قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button