تلنگانہ کی خبریںجرائم و حادثات

دوستوں کو ڈرانے کے لیے سانپ ہاتھ میں اٹھایا، حیدرآباد کے نوجوان تاجر کی جان چلی گئی

حیدرآباد میں افسوسناک واقعہ، فارم ہاؤس پر سانپ کے ڈسنے سے 30 سالہ تاجر ہلاک

حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) حیدرآباد کے ایک نوجوان تاجر کو فارم ہاؤس میں سانپ سے کھیلنا مہنگا پڑ گیا۔ زہریلے سانپ کے ڈسنے سے 30 سالہ تاجر کی موت ہوگئی، جس کے بعد علاقے میں افسوس کی لہر دوڑ گئی۔

متوفی کی شناخت سید محی الدین حسینی کے نام سے ہوئی ہے، جو راجیندر نگر کے بابری ہلز علاقے کے رہائشی اور رئیل اسٹیٹ کے کاروبار سے وابستہ تھے۔ پولیس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ جمعہ 19 جون کو رنگا ریڈی ضلع کے معین آباد میں واقع ان کے نجی فارم ہاؤس پر پیش آیا۔

اطلاعات کے مطابق سید محی الدین اپنے دوستوں کے ساتھ فارم ہاؤس میں وقت گزار رہے تھے کہ اسی دوران ایک چھوٹا زہریلا سانپ احاطے میں داخل ہوگیا۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے دوستوں کو ڈرانے اور مذاق کرنے کی نیت سے سانپ کو ہاتھوں سے پکڑ لیا۔

اسی دوران سانپ نے اچانک ان کے دائیں ہاتھ پر کاٹ لیا۔ ابتدا میں انہوں نے سانپ کے ڈسنے کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور ہنسی مذاق میں ٹالتے رہے، لیکن کچھ ہی دیر بعد زہر کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہوگئے۔ ان کی طبیعت تیزی سے بگڑنے لگی اور سانس لینے میں دشواری پیدا ہوگئی۔

سانپ کے ڈسنے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد سید محی الدین کی طبیعت بگڑنے لگی، جس پر انہیں مہدی پٹنم کے ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا۔ وہاں ڈاکٹروں نے انہیں انجکشن دیا، تاہم ان کی حالت مزید تشویشناک ہوگئی۔ بعد ازاں انہیں عثمانیہ جنرل اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم زہر جسم میں پھیل جانے کے باعث وہ دورانِ علاج دم توڑ گئے۔۔ مرحوم کے پسماندگان میں اہلیہ اور تین بچے شامل ہیں۔

پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ ماہرین نے عوام سے اپیل کی ہے کہ سانپ یا کسی بھی جنگلی جانور کو پکڑنے یا اس کے ساتھ کھیلنے کی کوشش نہ کریں، کیونکہ معمولی لاپروائی بھی جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button