جرائم و حادثاتسرورق

بہار میں انسانیت سوز واردات،اجتماعی زیادتی کے بعد خاتون پر بہیمانہ تشدد، شرمگاہ سے زندہ کارتوس اور دیگر اشیاء برآمد

 خاتون کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی اور بہیمانہ تشدد، طبی معائنے میں چونکا دینے والے انکشافات

نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)بہار کے ضلع بیگوسرائے سے ایک دل دہلا دینے والا اور انسانیت کو شرما دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک خاتون نے پانچ افراد پر اجتماعی زیادتی اور وحشیانہ تشدد کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ متاثرہ خاتون کے مطابق ملزمان نے نہ صرف اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی بلکہ سفاکیت کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے اس کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا۔ خاتون کا الزام ہے کہ ملزمان نے اسے شدید جسمانی اذیت پہنچائی اور اس کے جسم پر بلیڈ سے متعدد وار کیے، جس کے بعد اسے زخمی حالت میں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ 11 جون کی رات چکیہ تھانہ علاقے میں پیش آیا۔ متاثرہ خاتون نے اپنے بیان میں بتایا کہ وہ رات تقریباً ساڑھے گیارہ بجے بیت الخلاء کے لیے گھر سے باہر نکلی تھی۔ اسی دوران پانچ افراد نے اسے قابو میں کر لیا۔ خاتون کا الزام ہے کہ حملہ آوروں نے پہلے اس کے شوہر کے کمرے کو باہر سے بند کر دیا اور پھر اسے زبردستی ایک سنسان اور تاریک مقام پر لے گئے۔

متاثرہ نے الزام لگایا کہ وہاں پانچوں افراد نے باری باری اس کے ساتھ زیادتی کی۔ اس دوران مزاحمت کرنے پر اسے بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ خاتون کا کہنا ہے کہ ملزمان نے تیز دھار ہتھیار سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں اس کے جسم، سینے اور رانوں پر شدید زخم آئے۔ متاثرہ کے مطابق ملزمان کی سفاکیت یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ انہوں نے اس کے ساتھ ایسا غیر انسانی سلوک کیا جس نے پورے واقعے کو مزید ہولناک بنا دیا۔

واردات کے بعد متاثرہ خاتون شدید زخمی حالت میں گھر پہنچی۔ شور و غل سن کر اہل خانہ موقع پر پہنچے اور فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی گئی۔ خاتون کو پہلے مقامی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی علاج کے بعد اسے بہتر علاج کے لیے صدر اسپتال ریفر کر دیا گیا۔ متاثرہ کا کہنا ہے کہ علاج کے باوجود شرمگاہ میں مسلسل شدید تکلیف اور درد محسوس ہو رہا تھا۔

پولیس حکام کے مطابق طبی معائنے اور علاج کے دوران اہم شواہد برآمد ہوئے ہیں، جنہیں فرانزک جانچ کے لیے محفوظ کر کے لیبارٹری بھیج دیا گیا ہے۔ ڈی ایس پی آنند کمار پانڈے نے بتایا کہ تفتیش کے دوران متاثرہ خاتون کے پرائیویٹ پارٹس سے گولی یا اس سے متعلقہ دھاتی ٹکڑے برآمد ہوئے ہیں، جس کے بعد کیس نے مزید سنگین رخ اختیار کر لیا ہے۔ واقعے کی حساسیت اور سنگینی کو دیکھتے ہوئے اعلیٰ پولیس افسران نے صدر اسپتال اور جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور تفتیشی ٹیموں کو تمام پہلوؤں سے سائنسی بنیادوں پر تحقیقات کرنے کی ہدایت دی ہے۔

متاثرہ خاتون نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ اس نے اس سے قبل بعض افراد کے خلاف شکایت درج کرانے کی کوشش کی تھی لیکن اس پر مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ اس الزام کے بعد مقامی پولیس کے کردار پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

ڈی ایس پی آنند کمار پانڈے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کیس کی ہر زاویے سے سائنسی بنیادوں پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق متاثرہ خاتون کے بیان، طبی رپورٹ، فرانزک شواہد اور دیگر دستیاب شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے تفتیش آگے بڑھائی جا رہی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ واقعے میں ملوث تمام ملزمان کی شناخت کر کے جلد گرفتار کیا جائے گا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات کے دوران کسی پولیس اہلکار کی غفلت یا لاپرواہی سامنے آئی تو اس کے خلاف بھی سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔ دوسری جانب اس واقعے نے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی ہے اور مقامی لوگ ملزمان کی فوری گرفتاری اور سخت سزا کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

پولیس نے مقدمہ درج کر کے مختلف ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ جلد ہی اس سنگین جرم میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لا کر انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button