
پالیسی لینے کے 5 دن بعد بیوی کا انتقال، انشورنس کمپنی کو 50 لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم
انشورنس کمپنی کو جھٹکا، دعویٰ مسترد کرنے پر شوہر کے حق میں 50 لاکھ روپے کا فیصلہ
وشاکھاپٹنم:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) آندھرا پردیش کے شہر وشاکھاپٹنم میں صارف کمیشن نے لائف انشورنس سے متعلق ایک اہم مقدمے میں خاتون کے شوہر کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے انشورنس کمپنی کو 50 لاکھ روپے کی بیمہ رقم ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق 53 سالہ سوارا بھاسکر کی اہلیہ سوارا رادھا نے 10 مارچ 2025 کو HDFC لائف اسمارٹ پروٹیکٹ پلان خریدا تھا۔ اس پالیسی کے تحت 50 لاکھ روپے کی رسک کوریج فراہم کی گئی تھی جبکہ سالانہ پریمیم 50 ہزار روپے مقرر تھا۔
پالیسی کے اجرا کے صرف پانچ دن بعد، 15 مارچ 2025 کو سوارا رادھا کو گھر میں اچانک دل کا دورہ پڑا، جس کے نتیجے میں ان کا انتقال ہوگیا۔ بعد ازاں ان کے شوہر اور نامزد وارث سوارا بھاسکر نے بیمہ رقم کی ادائیگی کے لیے درخواست دی۔
تاہم HDFC لائف انشورنس نے 10 اپریل 2025 کو پالیسی منسوخ کرتے ہوئے درخواست مسترد کر دی۔ کمپنی کا مؤقف تھا کہ پالیسی حاصل کرتے وقت بعض اہم حقائق چھپائے گئے اور درخواست فارم میں غلط معلومات فراہم کی گئی تھیں۔
سماعت کے دوران انشورنس کمپنی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پالیسی کو ابتدائی ’’فری لک پیریڈ‘‘ کے دوران جانچ کے بعد منسوخ کیا گیا تھا، اس لیے کمپنی پر بیمہ رقم ادا کرنے کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔
اس فیصلے کے خلاف سوارا بھاسکر نے اپنے وکیل ڈی سبرامنیم کے ذریعے صارف کمیشن سے رجوع کیا۔ کمیشن کی چیئرپرسن ڈاکٹر گڈلا تنوجا اور رکن واری کرشنا مورتی پر مشتمل بینچ نے دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد انشورنس کمپنی کے اقدامات کو ’’خدمت میں کمی‘‘ اور ’’غیر منصفانہ تجارتی طرزِ عمل‘‘ قرار دیا۔
کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پریمیم وصول کرنے اور پالیسی جاری کرنے کے بعد کمپنی بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے اپنی ذمہ داری سے دستبردار نہیں ہو سکتی۔ کمپنی یہ ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی کہ پالیسی ہولڈر نے جان بوجھ کر کوئی غلط یا گمراہ کن معلومات فراہم کی تھیں۔
فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ اگر پالیسی قانونی طور پر نافذ ہو چکی ہو تو صرف اس بنیاد پر ادائیگی سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بیمہ یافتہ شخص پالیسی لینے کے فوراً بعد انتقال کر گیا۔
صارف کمیشن نے HDFC لائف انشورنس کو ہدایت دی ہے کہ وہ سوارا بھاسکر کو 50 لاکھ روپے کی مکمل بیمہ رقم ادا کرے۔ اس کے علاوہ 15 مارچ 2025 سے 6 فیصد سالانہ شرح کے حساب سے سود بھی ادا کیا جائے۔ کمیشن نے ذہنی اذیت اور پریشانی کے ازالے کے لیے 25 ہزار روپے ہرجانہ جبکہ قانونی اخراجات کی مد میں 5 ہزار روپے اضافی ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔
کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بغیر کسی مضبوط بنیاد کے بیمہ درخواستوں کو مسترد کرنا صارفین کے حقوق کی خلاف ورزی ہے اور ایسی کارروائیوں کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ یہ فیصلہ انشورنس صارفین کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم نظیر سمجھا جا رہا ہے۔



