بین الاقوامی خبریںسرورق

وینزویلا میں قیامت خیز ڈبل زلزلہ، 10 ہزار سے زائد ہلاکتوں کا خدشہ؛ جاپان بھی 7 شدت کے زلزلے سے لرز اٹھا

10 ہزار سے ایک لاکھ ہلاکتوں کا خدشہ

کاراکاس / ٹوکیو: دنیا کے دو مختلف خطوں میں طاقتور زلزلوں نے خوف و ہراس پھیلا دیا۔ جنوبی امریکی ملک وینزویلا میں ایک منٹ کے اندر دو انتہائی شدید زلزلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی، جبکہ اسی روز جاپان کے شمال مشرقی ساحلی علاقوں میں بھی 7 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ وینزویلا میں امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) نے ابتدائی اندازے میں 10 ہزار سے ایک لاکھ تک ممکنہ ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے، جبکہ جاپان میں فوری طور پر کسی بڑے جانی نقصان یا سونامی کی اطلاع نہیں ملی۔

وینزویلا میں ایک منٹ کے اندر دو طاقتور زلزلے

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق وینزویلا میں پہلے زلزلے کی شدت 7.1 ریکارڈ کی گئی، جس کا مرکز کیریبین ساحلی علاقے مورون کے مغرب میں تھا۔ اس کے صرف ایک منٹ بعد دوسرا اور زیادہ طاقتور زلزلہ آیا، جس کی شدت 7.5 ریکارڈ کی گئی۔ دونوں زلزلوں کی گہرائی صرف 10 سے 13 کلومیٹر تھی، جس کی وجہ سے زمین پر جھٹکوں کی شدت کئی گنا زیادہ محسوس کی گئی۔

دارالحکومت کاراکاس سمیت متعدد شہروں میں سیکڑوں عمارتیں زمین بوس ہوگئیں، سڑکوں میں دراڑیں پڑ گئیں، ہوائی اڈے کو بھی نقصان پہنچا اور مختلف علاقوں میں مواصلاتی نظام متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں تباہ شدہ عمارتیں، ملبے میں دبے افراد اور امدادی کارروائیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔

10 ہزار سے ایک لاکھ ہلاکتوں کا خدشہ

امریکی جیولوجیکل سروے نے ابتدائی تخمینے میں کہا ہے کہ زلزلے کے باعث جانی نقصان انتہائی سنگین ہوسکتا ہے اور ہلاکتوں کی تعداد 10 ہزار سے بڑھ کر ایک لاکھ تک پہنچنے کا امکان موجود ہے۔ اگرچہ سرکاری طور پر ہلاکتوں اور زخمیوں کی حتمی تعداد جاری نہیں کی گئی، تاہم مقامی حکام مسلسل متاثرہ علاقوں سے معلومات اکٹھی کر رہے ہیں جبکہ ریسکیو ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور زندہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔

کم گہرائی نے تباہی میں اضافہ کردیا

ماہرین کے مطابق دونوں زلزلوں کی سب سے اہم خصوصیت ان کی انتہائی کم گہرائی تھی۔ جب زلزلے کا مرکز زمین کی سطح کے قریب ہوتا ہے تو اس کی توانائی براہِ راست سطح تک پہنچتی ہے، جس سے جھٹکے زیادہ شدت کے ساتھ محسوس ہوتے ہیں اور عمارتوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ اسی وجہ سے کاراکاس اور آس پاس کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی دیکھنے میں آئی ہے۔

زلزلہ پیما اداروں نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں متعدد آفٹر شاکس آسکتے ہیں، جن میں بعض کافی طاقتور بھی ہوسکتے ہیں۔

وینزویلا میں ایمرجنسی نافذ

قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز نے ملک بھر میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے عوام کو محتاط رہنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تمام ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور جلد قوم سے خطاب کرکے صورتحال سے آگاہ کریں گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وینزویلا کی جغرافیائی حیثیت اسے زلزلوں کے لحاظ سے حساس بناتی ہے کیونکہ یہ کیریبین اور جنوبی امریکی ٹیکٹونک پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہے۔ 1812 میں بھی اسی خطے میں آنے والے تباہ کن زلزلے میں تقریباً 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

جاپان میں بھی 7 شدت کا زلزلہ

وینزویلا کے تباہ کن زلزلے کے چند گھنٹوں بعد جاپان کے شمال مشرقی ساحلی علاقے ایواتے پریفیکچر میں بھی طاقتور زلزلہ آیا۔ ہندوستان کے نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی کے مطابق زلزلے کی شدت 7.0 جبکہ جاپان کی موسمیاتی ایجنسی نے 6.9 ریکارڈ کی۔

زلزلے کا مرکز ایواتے کے ساحل کے قریب سمندر میں تقریباً 50 کلومیٹر گہرائی میں تھا۔ آموری پریفیکچر کے ہاشیکامی شہر سمیت کئی علاقوں میں شدید جھٹکے محسوس کیے گئے جبکہ دارالحکومت ٹوکیو میں بھی ہلکی لرزش ریکارڈ کی گئی۔

سونامی کی وارننگ جاری نہیں کی گئی

جاپان کی موسمیاتی ایجنسی نے واضح کیا کہ زلزلے کے بعد سونامی کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع بھی موصول نہیں ہوئی، تاہم احتیاطی طور پر حکام صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

وزیراعظم سانائے تاکائیچی نے متعلقہ وزارتوں، امدادی اداروں اور کرائسز مینجمنٹ ٹیموں کو فوری طور پر متحرک کرتے ہوئے نقصانات کا جائزہ لینے، امدادی کارروائیاں تیز کرنے اور عوام کو بروقت درست معلومات فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی۔

جاپان ماضی کی تباہی نہیں بھولا

جاپان دنیا کے زلزلہ زدہ ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ 2011 میں 9.0 شدت کے سمندری زلزلے اور اس کے بعد آنے والی سونامی میں تقریباً 18 ہزار 500 افراد ہلاک یا لاپتہ ہوگئے تھے، جبکہ فوکوشیما جوہری پلانٹ بھی شدید متاثر ہوا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ زلزلے کے بعد اگرچہ سونامی کا خطرہ نہیں، تاہم آفٹر شاکس کے پیش نظر شہریوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

عالمی ماہرین کی تشویش

زلزلہ پیما ماہرین کے مطابق وینزویلا اور جاپان میں آنے والے یہ طاقتور زلزلے اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ دنیا کے مختلف زلزلہ خیز خطوں میں قدرتی آفات کا خطرہ مسلسل موجود رہتا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں جبکہ عالمی ادارے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button