
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے بیوی کے قتل کیس میں شوہر کی عمر قید کم کرکے 7 سال کر دی
عدالت نے بیوی کے "میرے اس جیسے ایک ہزار شوہر ہو سکتے ہیں" والے بیان کو شدید اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا کو سات سال قید بامشقت میں تبدیل کر دیا۔
بھوپال:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے بیوی کے قتل کے ایک مقدمے میں شوہر کی عمر قید کی سزا کو کم کرتے ہوئے اسے سات سال قید بامشقت میں تبدیل کر دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ بیوی کا اپنے شوہر سے یہ کہنا کہ "میرے اس جیسے ایک ہزار شوہر ہو سکتے ہیں” ایک سنگین اور اشتعال انگیز تبصرہ تھا، جس کے باعث ملزم نے اچانک غصے میں آکر جرم کا ارتکاب کیا۔
یہ معاملہ مدھیہ پردیش کے ضلع چھندواڑہ کے چورائی علاقے کا ہے، جہاں 18 اور 19 جولائی کی درمیانی شب شیوا اور اس کی اہلیہ کرن کے درمیان جھگڑا ہوا تھا۔ یہ تنازع دریائے کلبہری کے کھرا گھاٹ کے قریب پیش آیا۔
پراسیکیوشن کے مطابق جھگڑے کے دوران کرن نے طنزیہ انداز میں اپنے شوہر سے کہا، "میرے اس جیسے ایک ہزار شوہر ہو سکتے ہیں۔” اس تبصرے پر شیوا طیش میں آ گیا اور اس نے ایک پتھر اٹھا کر اپنی بیوی پر پھینک دیا، جس سے وہ جان کی بازی ہار گئی۔
واقعے کے بعد شیوا نے خود پولیس اور اپنی اہلیہ کے اہل خانہ کو فون کر کے اطلاع دی۔ ٹرائل کورٹ نے اسے قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی، تاہم اس نے ہائی کورٹ میں اس فیصلے کو چیلنج کیا۔
جسٹس وویک اگروال اور جسٹس انندرا کمار سنگھ پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سماعت کے دوران کہا کہ اگرچہ ملزم کے ہاتھوں بیوی کی موت واقع ہوئی، لیکن یہ واقعہ اچانک جھگڑے اور شدید اشتعال کے نتیجے میں پیش آیا۔ عدالت نے کہا کہ ریکارڈ میں ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ ملزم نے پہلے سے قتل کی منصوبہ بندی کی تھی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اس قسم کے تبصرے شوہر کی عزت اور انسانی وقار کو مجروح کرتے ہیں، جس سے اچانک غصہ پیدا ہو سکتا ہے۔ بنچ نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ اگر ملزم کا ارادہ قتل کرنا ہوتا تو وہ واردات کے بعد فرار ہو جاتا، نہ کہ خود پولیس اور رشتہ داروں کو اطلاع دیتا۔
ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اچانک اشتعال کی حالت میں کیے گئے جرم کا جائزہ مختلف انداز میں لیا جاتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ ملزم نے اپنی بیوی پر بار بار پتھروں سے حملہ کیا، اور بعض زخم گرنے کے باعث بھی لگ سکتے ہیں۔
ان تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ہائی کورٹ نے شیوا کی عمر قید کی سزا کم کرتے ہوئے اسے سات سال قید بامشقت کی سزا سنائی۔



