بین ریاستی خبریںجرائم و حادثاتسرورق

ساس بہو قتل کیس: سسر سے مبینہ ناجائز تعلقات، ساس کو راستے سے ہٹانے کے لیے قتل کی خوفناک سازش بے نقاب

سسر اور بہو کے مبینہ ناجائز تعلقات پر اعتراض جان لیوا ثابت ہونے کا الزام

گریڈیہ (جھارکھنڈ):(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)جھارکھنڈ کے ضلع گریڈیہ کے بھراکٹا تھانہ علاقے کے سرمادیہ گاؤں سے ایک ایسا لرزہ خیز قتل کیس سامنے آیا ہے جس نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔ 55 سالہ کلسی دیوی کے قتل کی تفتیش میں پولیس نے ایسے انکشافات کیے ہیں جنہوں نے خاندانی رشتوں کو شرمسار کر دیا۔ پولیس کے مطابق مقتولہ کے شوہر دولت ساو اور ان کی چھوٹی بہو پریتی کماری کو قتل کے الزام میں گرفتار کر کے عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا گیا ہے۔

پولیس اور مقامی لوگوں کے مطابق دولت ساو کے اپنی چھوٹی بہو پریتی کماری کے ساتھ مبینہ ناجائز تعلقات تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ مقتولہ کلسی دیوی ان تعلقات کی مخالفت کرتی تھیں اور اکثر اس معاملے پر گھر میں جھگڑے ہوتے تھے۔ الزام ہے کہ یہی مخالفت ان کی جان لے گئی اور دونوں ملزمان نے مل کر انہیں راستے سے ہٹانے کی سازش رچی۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ جمعہ کی رات دولت ساو اور اس کی چھوٹی بہو نے مبینہ طور پر گھر میں موجود چکی (تیز دھار آلے) سے کلسی دیوی کا گلا کاٹ کر قتل کر دیا۔ قتل کے بعد لاش کو ایک کمرے میں بند کر دیا گیا اور کمرے کے دروازے پر باہر سے تالا لگا دیا گیا تاکہ لوگوں کو یہ تاثر دیا جا سکے کہ خاتون گھر پر موجود نہیں ہیں۔

جب پڑوسیوں نے کلسی دیوی کے بارے میں پوچھا تو پریتی کماری نے بتایا کہ وہ اپنی بیٹی کے گھر گئی ہیں۔ اس دوران دونوں ملزمان نے لاش کو ٹھکانے لگانے کی بھی کئی کوششیں کیں، تاہم کامیاب نہ ہو سکے۔

اتوار کی صبح دولت ساو خود مقامی گاؤں کے سربراہ کے کے ورما کے پاس پہنچا اور دعویٰ کیا کہ کسی نامعلوم شخص نے اس کی بیوی کو قتل کر دیا ہے۔ گاؤں کے سربراہ نے فوری طور پر بھراکٹا تھانے کو اطلاع دی۔

اطلاع ملتے ہی اسٹیشن انچارج اوم پرکاش پانڈے پولیس ٹیم کے ساتھ موقع پر پہنچے۔ پولیس نے دیکھا کہ جس کمرے میں لاش موجود تھی، اس کا تالا صرف دکھاوے کے لیے لٹکایا گیا تھا۔ جیسے ہی کمرہ کھولا گیا تو اندر سے شدید بدبو آ رہی تھی، جس سے اندازہ ہوا کہ قتل کئی گھنٹے پہلے کیا جا چکا تھا۔

پولیس نے لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا اور ابتدائی شواہد کی بنیاد پر دولت ساو اور پریتی کماری کو موقع پر ہی حراست میں لے لیا۔

دو سال پرانے تنازع کا بھی انکشاف

گاؤں والوں کے مطابق دولت ساو اور اس کی چھوٹی بہو پریتی کماری کے مبینہ ناجائز تعلقات کا معاملہ کوئی نیا نہیں تھا بلکہ تقریباً دو سال پہلے بھی یہ تنازع پورے گاؤں میں موضوعِ بحث بن چکا تھا۔ مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ اس وقت پریتی کماری نے اپنے سسر پر سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ گاؤں والوں کے مطابق سسر مبینہ طور پر اس کے دودھ میں نشہ آور چیز ملا دیتا تھا اور پھر اس کے ساتھ زبردستی جسمانی تعلق قائم کرتا تھا۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد گاؤں میں پنچایت بلائی گئی، جہاں پریتی کماری نے اپنے سسر کو سب کے سامنے چپل سے بھی مارا تھا۔ اس موقع پر دولت ساو نے پنچایت سے معافی مانگی، جس کے بعد پریتی کا شوہر، جو روزگار کے سلسلے میں حیدرآباد میں رہتا ہے، اپنی بیوی کو اپنے ساتھ لے گیا۔

تاہم چند ماہ بعد پریتی کماری دوبارہ گاؤں واپس آ گئی۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ واپسی کے بعد اس نے اپنی مرضی سے دوبارہ اپنے سسر کے ساتھ رہنا شروع کر دیا اور دونوں کے درمیان مبینہ ناجائز تعلقات برقرار رہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق کلسی دیوی مسلسل اس تعلق کی مخالفت کرتی تھیں، جس کے باعث گھر میں آئے روز جھگڑے ہوتے تھے۔ پولیس کا الزام ہے کہ یہی تنازع آخرکار قتل کی وجہ بنا۔

پولیس کے مطابق مقتولہ کی بڑی بہو ہیمنتی دیوی کی تحریری شکایت پر ایف آئی آر درج کی گئی۔ پوچھ گچھ کے دوران دونوں ملزمان کے بیانات اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ بعد ازاں عدالت میں پیش کرنے کے بعد دونوں کو عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا گیا۔

بھراکٹا تھانے کے انچارج اوم پرکاش پانڈے نے بتایا کہ جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد، گاؤں والوں کے بیانات اور پوچھ گچھ کے دوران سامنے آنے والی معلومات کی بنیاد پر دونوں ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس ہر پہلو سے معاملے کی تفتیش کر رہی ہے اور پوسٹ مارٹم رپورٹ سمیت دیگر فرانزک شواہد کا بھی انتظار کیا جا رہا ہے۔

نوٹ: اس خبر میں سسر اور بہو کے درمیان تعلقات سے متعلق تمام دعوے پولیس کی ابتدائی تفتیش، ایف آئی آر اور مقامی افراد کے بیانات پر مبنی ہیں۔ ان الزامات کی حتمی قانونی تصدیق عدالت کی کارروائی کے بعد ہی ہوگی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button